Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
329 - 872
اِذْ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوْقِکُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنۡکُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوۡبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللہِ الظُّنُوۡنَا ﴿۱۰﴾ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوۡنَ وَ زُلْزِلُوۡا زِلْزَالًا شَدِیۡدًا ﴿۱۱﴾ (1)
جب کافر تم پر آ گئے تمہارے اوپر سے ا و ر تمہارے نیچے سے اور جب کہ ٹھٹھک کر رہ گئیں نگاہیں اور دل گلوں کے پاس(خوف سے)آ گئے اور تم اﷲ پر (امید و یاس سے) طرح طرح کے گمان کرنے لگے اس جگہ مسلمان آزمائش اور امتحان میں ڈال دئیے گئے اور وہ بڑے زور کے زلزلے میں جھنجھوڑ کر رکھ دئیے گئے۔(احزاب)

    منافقین جو مسلمانوں کے دوش بدوش کھڑے تھے وہ کفار کے اس لشکر کو دیکھتے ہی بزدل ہو کر پھسل گئے اوراس وقت ان کے نفاق کا پردہ چاک ہو گیا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اپنے گھر جانے کی اجازت مانگنی شروع کر دی۔(2) جیسا کہ قرآن میں اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
 وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیۡقٌ مِّنْہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوْرَۃٌ ؕۛ وَمَا ہِیَ بِعَوْرَۃٍ ۚۛ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿۱۳﴾ (3)
اور ایک گروہ(منافقین) ان میں سے نبی کی اجازت طلب کرتا تھا منافق کہتے ہیں کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے ہوئے نہیں تھے ان کا مقصد بھاگنے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔(احزاب)

لیکن اسلام کے سچے جاں نثار مہاجرین و انصار نے جب لشکر کفار کی طوفانی یلغار کو دیکھا تو اس طرح سینہ سپر ہو کر ڈٹ گئے کہ ''سلع'' اور ''احد'' کی پہاڑیاں سر
1۔۔۔۔۔۔پ۲۱،الاحزاب:۱۰،۱۱

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی،باب غزوۃ الخندق...الخ،ج۳،ص۴۰ ملخصاً    

3۔۔۔۔۔۔پ۲۱،الاحزاب:۱۳
Flag Counter