Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
298 - 872
سے مشورہ کے بعد ان یہودیوں کے پاس قاصد بھیج دیا(1) کہ چونکہ تم لوگوں نے اپنی اس دسیسہ کاری اور قاتلانہ سازش سے معاہدہ توڑ دیااس لئے اب تم لوگوں کو دس دن کی مہلت دی جاتی ہے کہ تم اس مدت میں مدینہ سے نکل جاؤ،اس کے بعد جو شخص بھی تم میں کایہاں پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا۔ شہنشاہ مدینہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر بنو نضیر کے یہودی جلا وطن ہونے کے لئے تیار ہو گئے تھے مگر منافقوں کا سردار عبداﷲ ابن ابی ان یہودیوں کا حامی بن گیا اور اس نے کہلا بھیجا کہ تم لوگ ہر گز ہر گز مدینہ سے نہ نکلو ہم دو ہزار آدمیوں سے تمہاری مدد کرنے کوتیارہیں اس کے علاوہ بنو قریظہ اور بنو غطفان یہودیوں کے دو طاقتور قبیلے بھی تمہاری مدد کریں گے۔ بنو نضیر کے یہودیوں کو جب اتنا بڑاسہارامل گیاتووہ شیرہوگئے اورانہوں نے حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس کہلا بھیجا کہ ہم مدینہ چھوڑکرنہیں جا سکتے آپ کے جودل میں آئے کرلیجیے۔(2)

                     (مدارج جلد۲ ص۱۴۷)

یہودیوں کے اس جواب کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی امامت حضرت ابن اُمِ مکتوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سپرد فرما کر خود بنو نضیر کا قصد فرمایا اور ان یہودیوں کے قلعہ کا محاصرہ کر لیایہ محاصرہ پندرہ دن تک قائم رہاقلعہ میں باہر سے ہر قسم کے سامانوں کا آنا جانا بند ہو گیااور یہودی بالکل ہی محصور و مجبور ہو کر رہ گئے مگر اس موقع پر نہ تو منافقوں کا سردار عبداﷲ بن ابی یہودیوں کی مدد کے لئے آیا نہ بنو قریظہ اور بنو غطفان نے کوئی مدد کی۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے ان دغا بازوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب چہارم ،ج۲،ص۱۴۶،۱۴۷ملتقطاً    

2۔۔۔۔۔۔ شرح الزرقانی علی المواھب،حدیث بنی النضیر، ج۲،ص۱۴۷
Flag Counter