Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
297 - 872
تھااسی معاملہ کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم قبیلۂ بنو نضیر کے یہودیوں کے پاس تشریف لے گئے کیونکہ ان یہودیوں سے آپ کا معاہدہ تھا مگر یہودی در حقیقت بہت ہی بدباطن ذہنیت والی قوم ہیں معاہدہ کرلینے کے باوجود ان خبیثوں کے دلوں میں پیغمبر اسلام صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی دشمنی اور عناد کی آگ بھری ہوئی تھی۔ ہر چند حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان بدباطنوں سے اہل کتاب ہونے کی بنا پر اچھا سلوک فرماتے تھے مگر یہ لوگ ہمیشہ اسلام کی بیخ کنی اور بانیئ اسلام کی دشمنی میں مصروف رہے۔ مسلمانوں سے بغض و عناد اور کفار و منافقین سے ساز باز اور اتحاد یہی ہمیشہ ان غداروں کا طرزِ عمل رہا۔ چنانچہ اس موقع پرجب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان یہودیوں کے پاس تشریف لے گئے تو ان لوگوں نے بظاہر تو بڑے اخلاق کا مظاہرہ کیامگر اندرونی طور پر بڑی ہی خوفناک سازش اور انتہائی خطرناک اسکیم کا منصوبہ بنا لیا۔(1) حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر و حضرت عمرو حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بھی تھے یہودیوں نے ان سب حضرات کو ایک دیوار کے نیچے بڑے احترام کے ساتھ بٹھایااور آپس میں یہ مشورہ کیا کہ چھت پر سے ایک بہت ہی بڑا اور وزنی پتھر ان حضرات پر گرا دیں تا کہ یہ سب لوگ دب کر ہلاک ہوجائیں۔ چنانچہ عمرو بن جحاش اس مقصد کے لئے چھت کے اوپر چڑھ گیا،محافظ ِحقیقی پر وردگار عالم عزوجل نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہودیوں کی اس ناپاک سازش سے بذریعہ وحی مطلع فرما دیااس لئے فوراً ہی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر چپ چاپ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ چلے آئے اور مدینہ تشریف لا کر صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو یہودیوں کی اس سازش سے آگاہ فرمایااور انصار ومہاجرین
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، حدیث بنی النضیر، ج۲،ص۵۰۸ ملخصاً
Flag Counter