شہر سے نکلتے ہی آپ نے دیکھا کہ ایک فوج چلی آ رہی ہے۔آپ نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یہ رئیس المنافقین عبداﷲ بن اُبی کے حلیف یہودیوں کا لشکر ہے جو آپ کی امداد کے لئے آ رہا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ:
''ان لوگوں سے کہہ دو کہ واپس لوٹ جائیں۔ ہم مشرکوں کے مقابلہ میں مشرکوں کی مدد نہیں لیں گے۔''(2)(مدارج جلد۲ ص۱۱۴)
چنانچہ یہودیوں کا یہ لشکر واپس چلا گیا۔پھرعبداﷲ بن اُبی (منافقوں کا سردار) بھی جو تین سو آدمیوں کو لے کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ آیا تھایہ کہہ کر واپس چلا گیا کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم )نے میرا مشورہ قبول نہیں کیااور میری رائے کے خلاف میدان میں نکل پڑے، لہٰذا میں ان کا ساتھ نہیں دوں گا۔(3)(مدارج جلد۲ص۱۱۵)
عبداﷲ بن اُبی کی بات سن کر قبیلہ خزرج میں سے ''بنو سلمہ'' کے اور قبیلۂ اوس میں سے ''بنو حارثہ'' کے لوگوں نے بھی واپس لوٹ جانے کا ارادہ کر لیامگر اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں میں اچانک محبت اسلام کاایسا جذبہ پیدا فرما دیا کہ