Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
223 - 872
 دونوں لشکر آمنے سامنے
اب وہ وقت ہے کہ میدان بدر میں حق و باطل کی دونوں صفیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔ قرآن اعلان کر رہا ہے کہ
قَدْ کَانَ لَکُمْ اٰیَۃٌ فِیۡ فِئَتَیۡنِ الْتَقَتَا ؕ فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ  (1)
جو لوگ باہم لڑے ان میں تمہارے لئے عبرت کا نشان ہے ایک خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا منکر خدا تھا۔(آل عمران )

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجاہدین اسلام کی صف بندی سے فارغ ہو کر مجاہدین کی قرارداد کے مطابق اپنے اس چھپر میں تشریف لے گئے جس کو صحابہ کرام نے آپ کی نشست کے لئے بنا رکھا تھا۔ اب اس چھپر کی حفاظت کا سوال بے حد اہم تھا کیونکہ کفار قریش کے حملوں کا اصل نشانہ حضور تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہی کی ذات تھی کسی کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ اس چھپر کا پہرہ دے لیکن اس موقع پر بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یارغار حضرت صدیق باوقاررضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کی قسمت میں یہ سعادت لکھی تھی کہ وہ ننگی تلوار لے کر اس جھونپڑی کے پاس ڈٹے رہے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی چند انصاریوں کے ساتھ اس چھپر کے گرد پہرہ دیتے رہے۔(زُرقانی ج۱ ص۴۱۸)
دعائے نبوی
    حضور سرورِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس نازک گھڑی میں جناب باری سے لو لگائے گریہ و زاری کے ساتھ کھڑے ہو کر ہاتھ پھیلائے یہ دعا مانگ رہے تھے کہ ''خداوندا !تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے آج اسے پورافرما دے۔''آپ پر اس قدر
1۔۔۔۔۔۔پ۳،اٰل عمرٰن: ۱۳
Flag Counter