Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
221 - 872
 شکم مبارک کا بوسہ
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی چھڑی کے اشارہ سے صفیں سیدھی فرما رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ حضرت سواد انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا پیٹ صف سے کچھ آگے نکلا ہوا تھا۔ آپ نے اپنی چھڑی سے ان کے پیٹ پر ایک کونچا دے کر فرمایاکہ اِسْتَوِ یَا سَوَادُ(اے سواد سیدھے کھڑے ہو جاؤ) حضرت سواد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یا رسول اﷲ! آپ نے میرے شکم پر چھڑی ماری ہے مجھے آپ سے اس کا قصاص (بدلہ)لینا ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا پیراہن شریف اٹھا کر فرمایا کہ اے سواد!لومیرا شکم حاضر ہے تم اس پر چھڑی مار کر مجھ سے اپنا قصاص لے لو۔ حضرت سواد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دوڑ کر آپ کے شکم مبارک کو چوم لیااورپھر نہایت ہی والہانہ اندازمیں انتہائی گرم جوشی کے ساتھ آپ کے جسم اقدس سے لپٹ گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے سواد! تم نے ایسا کیوں کیا؟ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں اس وقت جنگ کی صف میں اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر کھڑا ہوں شاید موت کا وقت آ گیا ہو، اس وقت میرے دل میں اس تمنا نے جوش مارا کہ کاش!مرتے وقت میرا بدن آپ کے جسم اطہر سے چھو جائے ۔یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سوادرضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے اس جذبۂ محبت کی قدر فرماتے ہوئے ان کے لئے خیروبرکت کی دعا فرمائی اور حضرت سواد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دربار رسالت میں معذرت کرتے ہوئے اپنا قصاص معاف کر دیااور تمام صحابۂ کرام حضرت سواد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس عاشقانہ اداکوحیرت سے دیکھتے ہوئے ان کا منہ تکتے رہ گئے۔(1)(سیرت ابن ہشام غزوہ بدر ج۲ ص۶۲۶)
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ،ص۲۵۸،۲۵۹
Flag Counter