Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
152 - 872
احکامِ اسلام کی تعلیم کے لئے کوئی معلم بھی ان لوگوں کے ساتھ کر دیا جائے۔ چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ان لوگوں کے ساتھ مدینہ منورہ بھیج دیا۔ وہ مدینہ میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان پر ٹھہرے اور انصار کے ایک ایک گھر میں جا جا کر اسلام کی تبلیغ کرنے لگے اور روزانہ ایک دو نئے آدمی آغوش اسلام میں آنے لگے۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ مدینہ سے قباء تک گھر گھر اسلام پھیل گیا۔

قبیلۂ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بہت ہی بہادر اور بااثر شخص تھے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو انہوں نے پہلے تو اسلام سے نفرت و بیزاری ظاہر کی مگر جب حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کو قرآنِ مجید پڑھ کر سنایا تو ایک دم اُن کا دل پسیج گیا اور اس قدر متاثر ہوئے کہ سعادتِ ایمان سے سرفراز ہو گئے۔ ان کے مسلمان ہوتے ہی ان کا قبیلہ ''اوس'' بھی دامنِ اسلام میں آ گیا۔

اسی سال بقول مشہور ماہ رجب کی ستائیسویں رات کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بحالت بیداری ''معراجِ جسمانی'' ہوئی ۔اور اِسی سفر معراج میں پانچ نمازیں فرض ہوئیں جس کا تفصیلی بیان ان شاء اﷲ تعالیٰ معجزات کے باب میں آئے گا۔ (1)

بیعت عقبہ ثانیہ

اس کے ایک سال بعد سن   13 ؁نبوی میں حج کے موقع پر مدینہ کے تقریباً بہتّر اشخاص نے منیٰ کی اسی گھاٹی میں اپنے بت پرست ساتھیوں سے چھپ کر
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، العقبۃ الاولٰی ومصعب بن عمیر ،ص۱۷۱۔۱۷۴
Flag Counter