Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
151 - 872
مجید کی آیتیں سنا سنا کر لوگوں کے سامنے اسلام پیش فرمانے لگے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم منیٰ میں عقبہ(گھاٹی) کے پاس جہاں آج ''مسجد العقبہ'' ہے تشریف فرما تھے کہ قبیلۂ خزرج کے چھ آدمی آپ کے پاس آ گئے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے ان کا نام و نسب پوچھا۔ پھر قرآن کی چند آیتیں سنا کر ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جس سے یہ لوگ بے حد متاثر ہوگئے اور ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر واپسی میں یہ کہنے لگے کہ یہودی جس نبی آخر الزمان کی خوشخبری دیتے رہے ہیں یقینا وہ نبی یہی ہیں۔ لہٰذا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہودی ہم سے پہلے اسلام کی دعوت قبول کر لیں۔ یہ کہہ کر سب ایک ساتھ مسلمان ہو گئے اور مدینہ جا کر اپنے اہل خاندان اور رشتہ داروں کو بھی اسلام کی دعوت دی ۔ان چھ خوش نصیبوں کے نام یہ ہیں۔ (1)حضرت عقبہ بن عامر بن نابی۔ (2)حضرت ابو امامہ اسعد بن زرارہ(3)حضرت عوف بن حارث(4) حضرت رافع بن مالک(5) حضرت قطبہ بن عامر بن حدیدہ(6)حضرت جابر بن عبداﷲ بن ریاب۔(1) (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین) (مدارج النبوۃ ج2 ص51 وزرقانی ج1 ص310)
بیعت عقبہ اولیٰ
دوسرے سال سن  12 ؁نبوی میں حج کے موقع پر مدینہ کے بارہ اشخاص منیٰ کی اسی گھاٹی میں چھپ کر مشرف بہ اسلام ہوئے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے بیعت ہوئے ۔تاریخ اسلام میں اس بیعت کا نام ''بیعت عقبہ اولیٰ'' ہے۔

ساتھ ہی ان لوگوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ درخواست بھی کی کہ
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم دوم ، باب سوم،ج۲،ص۵۱۔۵۲والمواہب اللدنیۃ ، ھجرتہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج۱،ص۱۴۱
Flag Counter