Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
134 - 872
    جب احکام اسلام کی ہمارے سامنے تلاوت کی جاتی ہے تو با کمال عقل والوں کے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔
وَاَحْمَدُ مُصْطَفًی فِیْنَا مُطَاعٌ 		فَلاَ تَغْشَوْہُ بِالْقَوْلِ الْعَنِیْفٖ
    اور خدا کے برگزیدہ احمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہمارے مقتدیٰ ہیں تو(اے کافرو) اپنی باطل بکواس سے ان پر غلبہ مت حاصل کرو۔
فَلاَ وَاﷲِ نُسْلِمُہٗ لِقَوْمٍ!		وَلَمَّا نَقْضِ فِیْھِمْ بِالسُّیُوْفٖ
     تو خدا کی قسم !ہم انہیں قوم کفار کے سپرد نہیں کریں گے۔ حالانکہ ابھی تک ہم نے ان کافروں کے ساتھ تلواروں سے فیصلہ نہیں کیا ہے۔(1)(زرقانی ج1 ص256)
حضرت عمر کااسلام
حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کے بعد تیسرے ہی دن حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی دولت اسلام سے مالا مال ہو گئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشرف بہ اسلام ہونے کے واقعات میں بہت سی روایات ہیں۔

ایک روایت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دن غصہ میں بھرے ہوئے ننگی تلوار لے کر اس ارادہ سے چلے کہ آج میں اسی تلوار سے پیغمبرِ اسلام کا خاتمہ کر دوں گا۔ اتفاق سے راستہ میں حضرت نعیم بن عبداﷲ قریشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوگئی۔ یہ مسلمان ہوچکے تھے مگر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ان کے اسلام کی خبر نہیں تھی۔ حضرت نعیم بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ کیوں؟ اے عمر! اس دوپہر کی گرمی میں ننگی تلوار لے کر کہاں چلے؟ کہنے لگے کہ آج بانئ اسلام کا فیصلہ کرنے کے لئے گھر سے نکل پڑا
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ، فصل فی ترتیب دعوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ج۱، ص۱۲۰،۱۲۱
Flag Counter