Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
133 - 872
کرتے تھے۔ ایک دن حسب معمول شکار سے واپس لوٹے تو ابن جدعان کی لونڈی اور خود ان کی بہن حضرت بی بی صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کو بتایا کہ آج ابو جہل نے کس کس طرح تمہارے بھتیجے حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ بے ادبی اور گستاخی کی ہے ۔ یہ ماجرا سن کر مارے غصہ کے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خون کھولنے لگا۔ ایک دم تیر کمان لئے ہوئے مسجد حرام میں پہنچ گئے اور اپنی کمان سے ابو جہل کے سر پر اس زور سے مارا کہ اس کا سر پھٹ گیا اور کہا کہ تو میرے بھتیجے کو گالیاں دیتا ہے؟ تجھے خبر نہیں کہ میں بھی اسی کے دین پر ہوں۔ یہ دیکھ کر قبیلۂ بنی مخزوم کے کچھ لوگ ابو جہل کی مدد کے لئے کھڑے ہو گئے تو ابو جہل نے یہ سوچ کر کہ کہیں بنو ہاشم سے جنگ نہ چھڑ جائے یہ کہا کہ اے بنی مخزوم! آپ لوگ حمزہ کو چھوڑ دیجیے ۔واقعی آج میں نے ان کے بھتیجے کو بہت ہی خراب خراب قسم کی گالیاں دی تھیں۔(1)

             (مدارج النبوۃ ج2 ص44 وزرقانی ج1 ص256)

حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمان ہو جانے کے بعد زور زور سے ان اشعار کو پڑھنا شروع کر دیا        ؎
حَمِدْتُّ اللہَ حِیْنَ ھَدٰی فُؤَادِیْ		اِلَی الْاِسْلَامِ وَالدِّیْنِ الْحَنِیْفٖ
     میں اﷲ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں جس وقت کہ اس نے میرے دل کو اسلام اور دین حنیف کی طرف ہدایت دی۔
اِذَا تُلِیَتْ رَسَائِلُہٗ عَلَیْنَا!		تَحَدَّرَ دَمْعُ ذِی الْلُبِّ الْحَصِیْفِ
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، اسلام حمزۃ رضی اللہ عنہ ،ج۱،ص۴۷۷ودلائل 

النبوۃ للبیہقی ، ذکر اسلام حمزۃ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ،ج۲،ص۲۱۳
Flag Counter