Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
131 - 872
نے اہل مکہ کے مظالم کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہا کہ اب میں اپنے وطن مکہ کو چھوڑ کر خدا کی لمبی چوڑی زمین میں پھرتا رہوں گا اور خدا کی عبادت کرتا رہوں گا۔ ابن د غنہ نے کہا کہ اے ابوبکر! آپ جیسا آدمی نہ شہر سے نکل سکتا ہے نہ نکالا جا سکتا ہے۔ آپ دوسروں کا بار اٹھاتے ہیں، مہمانانِ حرم کی مہمان نوازی کرتے ہیں، خود کما کما کر مفلسوں اور محتاجوں کی مالی امداد کرتے ہیں، حق کے کاموں میں سب کی امداد و اعانت کرتے ہیں۔ آپ میرے ساتھ مکہ واپس چلیے میں آپ کو اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔ ابن د غنہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زبردستی مکہ واپس لایا اور تمام کفار مکہ سے کہہ دیا کہ میں نے ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے۔ لہٰذا خبردار! کوئی ان کو نہ ستائے کفار مکہ نے کہا کہ ہم کو اس شرط پر منظور ہے کہ ابوبکر اپنے گھر کے اندر چھپ کر قرآن پڑھیں تاکہ ہماری عورتوں اور بچوں کے کان میں قرآن کی آواز نہ پہنچے۔ابن د غنہ نے کفار کی شرط کو منظور کر لیا۔ اور حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ چند دنوں تک اپنے گھرکے اندرقرآن پڑھتے رہے مگرحضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جذبۂ اسلامی اور جوش ایمانی نے یہ گوارا نہیں کیا کہ معبود ان باطل لات و عزیٰ کی عبادت تو علی الاعلان ہو اور معبود برحق اللہ تعالیٰ کی عبادت گھر کے اندر چھپ کرکی جائے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گھر کے باہر اپنے صحن میں ایک مسجد بنالی اور اس مسجد میں علی الاعلان نمازوں میں بلند آواز سے قرآن پڑھنے لگے اور کفار مکہ کی عورتیں اور بچے بھیڑ لگا کر قرآن سننے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر کفار مکہ نے ابن د غنہ کو مکہ بلایااور شکایت کی کہ ابوبکر گھر کے باہر قرآن پڑھتے ہیں۔ جس کو سننے کے لئے ان کے گرد ہماری عورتوں اور بچوں کا میلہ لگ جاتا ہے۔ اس سے ہم کو بڑی تکلیف ہوتی ہے لہٰذا تم ان سے کہہ دو کہ یا تو وہ گھر