Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
130 - 872
خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خدا کے وہی رسول ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انجیل میں دی ہے اور اگر میں دستور سلطنت کے مطابق تخت شاہی پر رہنے کا پابند نہ ہوتاتو میں خود مکہ جا کر رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جوتیاں سیدھی کرتااور ان کے قدم دھوتا۔ بادشاہ کی تقریر سن کر اس کے درباری جو کٹرقسم کے عیسائی تھے ناراض و برہم ہوگئے مگر نجاشی بادشاہ نے جوش ایمانی میں سب کو ڈانٹ پھٹکار کر خاموش کر دیا۔ اور کفار مکہ کے تحفوں کو واپس لوٹا کر عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو دربار سے نکلوا دیااور مسلمانوں سے کہہ دیا کہ تم لوگ میری سلطنت میں جہاں چاہو امن و سکون کے ساتھ آرام و چین کی زندگی بسر کرو۔ کوئی تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔(1)

                 (زرقانی ج1 ص288)

واضح رہے کہ نجاشی بادشاہ مسلمان ہو گیا تھا۔ چنانچہ اس کے انتقال پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ حالانکہ نجاشی بادشاہ کا انتقال حبشہ میں ہوا تھا اور وہ حبشہ ہی میں مدفون بھی ہوئے مگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے غائبانہ ان کی نماز جنازہ پڑھ کر ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی ۔
حضرت ابوبکر اور ابن دغنہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی حبشہ کی طرف ہجرت کی مگر جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقام ''برک الغماد'' میں پہنچے تو قبیلہ قارہ کا سردار''مالک بن دغنہ'' راستے میں ملا اور دریافت کیا کہ کیوں ؟اے ابوبکر! کہاں چلے ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃمع شرح الزرقانی،الھجرۃ الثانیۃالی الحبشۃ...الخ،ج۲،ص۳۳
Flag Counter