کو کب گوارا ہو سکتا تھا کہ فرزندان توحید کہیں امن و چین کے ساتھ رہ سکیں۔ ان ظالموں نے کچھ تحائف کے ساتھ ''عمرو بن العاص'' اور ''عمارہ بن ولید'' کو بادشاہ حبشہ کے دربار میں اپنا سفیر بنا کر بھیجا ۔ان دونوں نے نجاشی کے دربار میں پہنچ کر تحفوں کا نذرانہ پیش کیا اور بادشاہ کو سجدہ کرکے یہ فریاد کرنے لگے کہ اے بادشاہ! ہمارے کچھ مجرم مکہ سے بھاگ کر آپ کے ملک میں پناہ گزین ہو گئے ہیں۔ آپ ہمارے ان مجرموں کو ہمارے حوالہ کر دیجیے ۔یہ سن کر نجاشی بادشاہ نے مسلمانوں کو دربار میں طلب کیا ۔اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے نمائندہ بن کر گفتگو کے لئے آگے بڑھے اور دربار کے آداب کے مطابق بادشاہ کو سجدہ نہیں کیابلکہ صرف سلام کرکے کھڑے ہو گئے۔ درباریوں نے ٹوکا تو حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس لئے میں بادشاہ کو سجدہ نہیں کر سکتا۔ (1) (زرقانی علی المواہب ج1 ص288)
اس کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دربار شاہی میں اس طرح تقریر شروع فرمائی کہ
''اے بادشاہ!ہم لوگ ایک جاہل قوم تھے ۔شرک و بت پرستی کرتے تھے۔ لوٹ مار، چوری، ڈکیتی، ظلم و ستم اور طرح طرح کی بدکاریوں اور بداعمالیوں میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری قوم میں ایک شخص کو اپنا رسول بنا کر بھیجا جس کے حسب و