رہیں۔ مگر خداوند تعالیٰ نے حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا سے پھر ان کی آنکھوں میں روشنی عطا فرما دی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)کے جادو کا اثر ہے۔(1) (زرقانی علی المواہب ج1 ص270)
اسی طرح حضرت بی بی ''نہدیہ'' اور حضرت بی بی ام عبیس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی باندیاں تھیں۔ اسلام لانے کے بعد کفار مکہ نے ان دونوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دے کر بے پناہ اذیتیں دیں مگر یہ اللہ والیاں صبر و شکر کے ساتھ ان بڑ ی بڑی مصیبتوں کو جھیلتی رہیں اور اسلام سے ان کے قدم نہیں ڈگمگائے۔(2)
حضرت یارغار مصطفی ابوبکر صدیق با صفا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کس کس طرح اسلام پر اپنی دولت نثار کی اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ آپ نے ان غریب و بے کس مسلمانوں میں سے اکثر کی جان بچائی۔ آپ نے حضرت بلال و عامر بن فہیرہ و ابو فکیہہ و لبینہ و زنیرہ و نہدیہ وام عنیس رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان تمام غلاموں کو بڑی بڑی رقمیں دے کر خریدااور سب کو آزاد کر دیااور ان مظلوموں کو کافروں کی ایذاؤں سے بچا لیا۔(3)(زرقانی علی المواہب و سیرت ابن ہشام ج1 ص319)
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب دامن اسلام میں آئے تو مکہ میں ایک مسافر کی حیثیت سے کئی دن تک حرم کعبہ میں رہے ۔یہ روزانہ زور زور سے چلا چلا کر اپنے اسلام کا اعلان کرتے تھے اور روزانہ کفار قریش ان کو اس قدر مارتے تھے کہ