حضرت ابوفکیہہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفوان بن امیہ کافر کے غلام تھے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہی مسلمان ہوئے تھے ۔جب صفوان کو ان کے اسلام کا پتا چلا تو اس نے ان کے گلے میں رسی کا پھندہ ڈال کر ان کو گھسیٹا اور گرم جلتی ہوئی زمین پر ان کو چت لٹا کر سینے پر وزنی پتھر رکھ دیا جب ان کو کفار گھسیٹ کر لے جا رہے تھے راستہ میں اتفاق سے ایک گبریلا نظر پڑا۔ امیہ کافر نے طعنہ مارتے ہوئے کہا کہ ''دیکھ تیرا خدا یہی تو نہیں ہے۔'' حضرت ابو فکیہہ نے فرمایا کہ'' اے کافر کے بچے! خاموش میرا اور تیرا خدا اللہ ہے۔'' یہ سن کر امیہ کافر غضب ناک ہو گیا اور اس زور سے ان کا گلا گھونٹا کہ وہ بے ہوش ہو گئے اور لوگوں نے سمجھا کہ ان کا دم نکل گیا۔
اسی طرح حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی اس قدر مارا جاتا تھا کہ ان کے جسم کی بوٹی بوٹی درد مند ہو جاتی تھی۔(1)
حضرت بی بی لبینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو لونڈی تھیں ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کفر کی حالت میں تھے اس غریب لونڈی کو اس قدر مارتے تھے کہ مارتے مارتے تھک جاتے تھے مگر حضرت لبینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اُف نہیں کرتی تھیں بلکہ نہایت جرأت و استقلال کے ساتھ کہتی تھیں کہ اے عمر! اگر تم خدا کے سچے رسول پر ایمان نہیں لاؤ گے تو خدا تم سے ضرور اس کا انتقام لے گا۔(2)
حضرت زنیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھرانے کی باندی تھیں۔ یہ مسلمان ہوگئیں تو ان کو اس قدر کافروں نے مارا کہ ان کی آنکھیں جاتی