Brailvi Books

صَرفِ بَہائى
28 - 53
سے ہر ایک یاتومذکر ہوتا ہے یامؤنث، اور متکلم ہوتاہے ، مخاطب ہوتاہے یا غائب۔

    یاد رکھ ! ''واحد'' ایک کو، '' تثنیہ'' دو کو، اور'' جمع'' دو سے زیادہ کوکہتے ہیں۔اور '' متکلم'' بات کر نےوالے کو، '' مخاطب'' جس سے بات کی جائے اس کو،اور'' غائب ''جس کے بارے میں بات کی جائے اس کو کہتے ہیں۔ ''مذکر'' مرد کو اور'' مؤنث'' عورت کوکہتے ہیں ۔

    ماضی کی دوقسمیں ہیں:(۱) ماضی معلوم(۱) اور(۲) ماضی مجہول۔ ماضی معلوم کے چودہ صیغے ہیں(۲):چھ غائب کے ،چھ مخاطب کے اور دو نفس متکلم کے، غائب کے چھ صیغوں میں سے تین مذکر کے ہوتے ہیں اور تین مؤنث کے، اور مخاطب کے چھ صیغوں میں سے بھی تین مذکر کے ہوتے ہیں اور تین مؤنث کے ،اور جو دوصیغے متکلم کے ہیں ان میں ایک واحدمتکلم کاہوتاہے خواہ متکلم مرد ہو یا عورت، اور دوسرا متکلم مع الغیرکاہوتا ہے خواہ متکلم تثنیہ ہو یا جمع ، مرد ہو یا عورت۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔قولہ: (ماضی معلوم)لفظ''ماضی''واحد مذکر اسم فاعل کاصیغہ ہے ازباب ضرب، اس کا لغوی معنی ہے ''گذرنے والا''۔اصطلاح میں ماضی وہ فعل جو زمانہ گذشتہ میں کسی کام کے پائے جانے پر دلالت کرے۔جیسے: ضَرَبَ۔اور معلوم سے مراد وہ فعل ہے جس کا فاعل معلوم ہو،اسے ''معروف ''بھی کہتے ہیں۔ثلاثی مجرد سے اس کو بنانے کاطریقہ یہ ہے کہ مصدر سے زوائد کو حذف کرکے (اگرہوں)فاء اورلام کلمہ کوفتحہ دیتے ہیں اور عین کلمہ پر(باب کے اعتبارسے) کبھی فتحہ، کبھی کسرہ اور کبھی ضمہ دیتے ہیں۔جیسے: ضَرْبٌ سے ضَرَبَ، سَمْعٌ سے سَمِعَ، کَرَامَۃٌ سے کَرُمَ ۔ 

2۔۔۔۔۔۔قولہ: (چودہ صیغے ہیں)صیغے صیغہ کی جمع ہے ، یہ اصل میں ''صِوْغَۃٌ'' تھا؛ واوساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلا تو ''صِیْغَۃٌ'' ہوگیا۔اس کا لغوی معنی ہے ''پیدائش''اور''ڈھالنا'' اسی لیے سنار کو ''صائغ'' کہا جاتاہے یعنی سونے کو ڈھالنے والا۔نیزصیغہ بمعنی ''اصل'' بھی آتاہے ۔جیساکہ کہاجاتاہے : ''ھو من صیغۃ کریمۃ'' یعنی وہ بزرگ اصل سے ہے۔اور اصطلاح میں صیغہ
Flag Counter