ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(فائدہ)اشتقاق کی تین قسمیں ہیں: (۱)اشتقاق صغیر (۲)اشتقاق کبیر(۳)اشتقاق اکبر۔اشتقاق صغیر یہ ہے کہ مشتق منہ اور مشتق کے درمیان حروف اصلیہ اور ترتیب حروف میں تناسب ہو۔جیسے: ضَرْبٌ سے ضَرَبَ، یہاں پریہی اشتقاق صغیر مراد ہے، اور یہی کثیرالوقوع ہے۔اشتقاق کبیریہ ہے کہ مشتق منہ اور مشتق کے درمیان حروف اصلیہ ،میں مناسبت ہو اور ترتیب حروف میں تناسب نہ ہو۔جیسے: جَذْبٌ سے جَبَذَ۔اشتقاق اکبریہ ہے کہ مشتق منہ اور مشتق کے درمیان مخارج حروف میں تناسب ہو ۔جیسے: نَھْقٌ سے نَعَقَ۔
(فائدہ )بصریین کے نزدیک مصدر اصل ہے اور فعل فرع ہے اور کوفیہ کے نزدیک فعل اصل ہے اور مصدرفرع، مصنف علیہ الرحمہ نے بصریین کاقول اختیار کرتے ہوئے فعل کومشتقات میں شمار کیاہے اوریہی راجح ہے۔
1۔۔۔۔۔۔قولہ: (صرف صغیر)خیال رہے صرف کی دو قسمیں ہیں: (۱)صرف صغیراور(۲)صرف کبیر۔ متقدمین کے نزدیک صرف صغیریہ ہے کہ ہر گردان سے ایک ایک صیغہ ذکر کیاجائے ۔اورمتأخرین کے نزدیک صرف صغیریہ ہے کہ بعض گردانوں سے ایک ایک صیغہ اور بعض گردانوں کے تمام صیغے ذکر کیے جائیں، مصنف علیہ الرحمہ نے اسی کو اختیار فرمایاہے۔(فائدہ)فعل کے صیغے کثیر ہونے کی بناء پرصرف صغیر میں اس کا ایک ایک صیغہ اور اسم کے صیغے قلیل ہونے کی وجہ سے اس کے تمام صیغے ذکر کیے جاتے ہیں۔مگر اسم فاعل اور اسم مفعول کی فعل کے ساتھ قوۃِ مشابہت کے سبب ذکر صیغ کے باب میں اس پرفعل کا حکم جاری کرتے ہوئے اس کے بھی بعض ہی صیغے ذکر کیے جاتے ہیں ، بخلاف اسم تفضیل کے ؛کہ اس کی مشابہت فعل کے ساتھ ضعیف ہونے کی وجہ سے اس پر فعل کا حکم جاری نہیں کیاجاتا۔
2۔۔۔۔۔۔قولہ: (فھوضارب)اس میں فاء تعقیب کے لیے ہے ، یافاء فصیحہ ہے یعنی شرط محذوف کی جزاء کے لیے ہے ، تقدیر یہ ہے: ''اذا کان الامر کذلک فھو ضارب''، یازائدہے ؛ برائے تحسین یاتفریح لائی گئی ہے ۔
3۔۔۔۔۔۔قولہ: (فذاک مضروب)اسم فاعل اور اسم مفعول میں فرق کرنے کے لیے اول کے