Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
59 - 273
سے نکاح ہو ا مگر رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ سوره تبت کے نازل ہونے پر طلاق کی نوبت آئی جیسا کہ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے بیان میں گزرا لیکن ان کے خاوند تو مسلمان ہوگئے تھے جیسا کہ گزرچکا اور ان کے خاوند عتيبہ نے طلاق دی اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں آکر نہایت گستاخی و بے ادبی سے پیش آیا اور نا مناسب الفاظ بھی زبان سے نکالے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دعائے ضرر دی کہ یا اللہ عزوجل ! اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مسلط فرما ،ابو طالب اس وقت موجود تھاباوجود مسلمان نہ ہونے کے سہم گیا اور کہا کہ ا س دعائے ضرر سے تجھے خلاصی نہیں۔ چنانچہ عتيبہ ایک مرتبہ شام کے سفر میں جارہا تھا اس کا باپ ابو لہب باوجود ساری عداوت اور دشمنی کے کہنے لگا کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی دعائے ضرر کی فکر ہے،قافلے کے سب لوگ ہماری خبر رکھیں۔ایک منزل پر پہنچے وہاں شیر زیادہ تھے ،رات کو تمام قافلے کا سامان ایک جگہ جمع کیا اور اس کا ٹیلا سا بنا کر اس پر عتیبہ کو سلایا اور قافلے کے تما م آدمی چاروں طرف سوئے۔رات کو ایک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھے اسکے بعد ایک جست لگائی اور اس ٹیلے پر پہنچ کر عتیبہ کا سر بدن سے جدا کر دیا، اس نے ایک آواز دی مگر ساتھ ہی کام تمام ہوچکا تھا۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ مسلمان ہوچکا تھا اور یہ قصہ پہلے بھائی کے ساتھ پیش آیا۔ بہر حال حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پہلے شوہروں میں سے ایک مسلمان ہوئے دوسرے کے ساتھ یہ عبرت کا واقعہ پیش آیا۔
        (المرجع السابق،ص۶۲)
Flag Counter