Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
58 - 273
گستاخی کی سزا
    حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ایک بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا تھیں جو اپنی بہن حضرت ز ینب رضی اللہ تعالیٰ عنھاسے تین برس بعد پید ا ہوئیں جبکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عمر شریف ۳۳ بر س تھی۔ اور بعض نے حضرت رقیہ کو حضرت زینب سے بڑی بتایاہے رضی اللہ تعالیٰ عنھما۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنھاسے چھوٹی تھیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چچا ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے نکاح ہو اتھا۔ جب سورۂ  تبت نازل ہوئی تو ابولہب نے اس سے اور اس کے دوسرے بھائی عتیبہ، جس کے نکاح میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تیسری شہزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنھا تھیں،سے یہ کہاکہ میری ملاقات تم سے حرام ہے اگر تم محمد ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ) کی بیٹیوں کو طلاق نہ دیدو، اس پر دونوں نے طلاق دیدی۔ یہ دونوں نکاح بچپن میں ہوئے تھے رخصتی کی نوبت بھی نہیں آئی تھی۔ اسکے بعد فتح مکہ پر حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خاوند مسلمان ہوگئے تھے مگر بیوی کو پہلے ہی طلاق دے چکے تھے حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرصہ ہوا ہوچکا تھا اور حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے دونوں مرتبہ حبشہ کی ہجرت کی۔
 (المواہب اللدنیۃ،المقصد الثانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام،ج۲،ص۶۱)
    حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تیسری شہزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنھا تھیں اس میں اختلاف ہے کہ ان میں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما میں سے کون بڑی تھیں اکثر کی رائے یہ ہے ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بڑی تھیں۔ اول عتیبہ بن ابی لہب
Flag Counter