| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
الا یارسول اللہ کنت رجاء نا وکنت بنا براً ولم تک جافیا
وکنت رحیما ھادیا ومعلما لیبک علیک الیوم من کان باکیا
فدی لرسول اللہ امی وخالتی وعمی وآبائی ونفسی ومالیاً
(حجۃاللہ علی العلمین، قسم الرابع،الباب الاول،ص۵۱۰)ترجمہ:(۱)یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ہماری امید اور ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے تھے بدسلو کی والے نہ تھے۔ (۲)آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم مہربان ، راہنما ، اور معلم تھے، رونے والے کو چاہیے کہ آج آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پرروئے ۔ (۳) میری ماں، میری خالہ ،میرے چچا ، میرے آبا ء و اجداد ، میری جان ومال سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر قربان ہوں۔
بناتِمدینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن
طلع البدر علینا من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا ما دعا للہ داع
ایھا المبعوث فینا جِئت بالامر المُطاع
(الوفاء الوفا،الفصل الحادی عشر،ج۱،ص۲۶۲)ترجمہ:(۱)وداع کی گھاٹیوں سے بدر کامل صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم طلوع ہوا۔ (۲)ہم پر شکر بجالانا واجب ہوا جب تک خداعزوجل کے لئے کوئی دعوت دینے والا دعوت دیتا رہے۔ (۳)اے ہمارے درمیان مبعوث ہونے والے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم وہ حکم لیکر تشریف لائے جس کی اطاعت کی جائے۔