| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
(پ29،نوح:26) ولو دعوت علینا بمثلھا لہلکنا کلنا فلقد وطیئ ظھرک عقبۃ ابن ابی معیط و انت تصلی و ادمی وجھک وکسرت رباعیتک یوم احد فابیت ان تقول الا خیرا فقلت اللھم اغفر لقومی فانھم لایعلمون بابی انت و امی یا رسول اللہ لقد بلغ من تواضعک انک جالستنا و تزوجت منا واکلت معنا ولبست الصوف ورکبت الدواب واردفت خلفک ووضعت طعامک علی الارض تواضعا منک صلی اللہ علیک وسلم رضی اللہ عنک یا عمر یا من احببت رسول اللہ واحبک اللہ ورسولہ.
ترجمہ: ''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ! آپ پر سلام ہو۔ آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کھجور کے ایک تنے پر ہمیں خطبہ دیا کرتے تھے، جب لوگوں کی کثرت ہوئی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک منبر بنوایا تا کہ سب تک آواز پہنچا سکیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے تو تنا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی جدائی کے سبب نالہ کناں ہوا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا تو وہ سکوں پذیر ہوا۔ جب کھجور کے تنے کا یہ حال ہے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے فراق پر نالہ شوق کرنے کا زیادہ حق پہنچتا ہے۔یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر میرے ماں باپ قربان !خدا عزوجل کے نزدیک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی فضیلت اس حد کو پہنچی ہوئی ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ۔ ارشاد باری عزوجل ہواـ: