لیکن علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی شرح میں پہلے تو اسکو ایک بے جوڑ چیز سمجھا ہے لیکن اس کے بعد لکھا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک اس سے وہ بال مبارک مراد ہیں جو کنگھی کرنے میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے سر سے جداہوجاتے تھے۔
پھر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب منیٰ میں اپنے بال مبارک اتروائے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وبارک وسلم کے بال مبارک لے لئے اور انکو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ کے حوالے کیا جن کو انہوں نے اپنی خوشبو میں شامل کرلیا۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس خوشبو میں یہ بال مبارک شامل تھے اسی میں وہ پسینے کو بھی شامل کرلیتی تھیں۔