Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
165 - 273
علیہ والہ وبارک وسلم کے موئے مبارک کو بھی شیشی میں بھرلیتی تھیں۔
(صحیح البخاری، کتاب الاستئذان،باب من زارقوما فقال عندھم ، الحدیث: ۶۲۸۱،ج۴،ص۱۸۲)
لیکن علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی شرح میں پہلے تو اسکو ایک بے جوڑ چیز سمجھا ہے لیکن اس کے بعد لکھا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک اس سے وہ بال مبارک مراد ہیں جو کنگھی کرنے میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے سر سے جداہوجاتے تھے۔  

پھر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب منیٰ میں اپنے بال مبارک اتروائے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وبارک وسلم کے بال مبارک لے لئے اور انکو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ کے حوالے کیا جن کو انہوں نے اپنی خوشبو میں شامل کرلیا۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس خوشبو میں یہ بال مبارک شامل تھے اسی میں وہ پسینے کو بھی شامل کرلیتی تھیں۔
(فتح الباری شرح البخاری، کتاب الاستئذان،باب من زار قوما فقال عندھم، تحت الحدیث: ۶۲۸۱،ج۱۲،ص۵۹)
غزوہ خیبر میں آ پ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ایک صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خود دست مبارک سے ایک ہار پہنایا تھا وہ اس کی اتنی قدر کرتی تھیں کہ عمر بھر گلے سے جدا نہیں کیا اور جب انتقال کرنے لگیں تو وصیت کی کہ ان کے ساتھ وہ بھی دفن کردیا جائے۔
(المسند لامام احمد بن حنبل، حدیث امرأۃ من بنی غفار رضی اللہ عنہا، الحدیث: ۲۷۲۰۶،ج۱۰،ص۳۲۴)
Flag Counter