| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
برکت حاصل کرنے کی درخواست کرتے۔
ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وبارک وسلم ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔ انہوں نے دعوت کی، جب چلنے لگے گھوڑے کی باگ پکڑ کر عرض کی کہ میرے لئے دعا فرمائیے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وبارک وسلم نے دعائے برکت اور دعائے مغفرت فرمائی۔(سنن ابی داود، کتاب الأشربۃ، باب فی النفخ فی الشراب ، الحدیث:۳۷۲۹، ج۳، ص۴۷۵)
ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وبارک وسلم حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہوکر سلام کیا۔ انہوں نے آہستہ سے جواب دیا۔ ان کے صاحبزادے نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وبارک وسلم کو اذن نہیں دیتے بولے چپ رہو مقصد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وبارک وسلم ہم پر بار بار سلام کریں آپ نے دوبارہ سلام کیا۔ پھر اسی قسم کا جواب ملا۔ تیسری بار سلام کرکے آپ واپس چلے، تو حضر ت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیچھے پیچھے دوڑے ہوئے آئے اور کہا کہ میں آپ کا سلام سنتا تھا لیکن جواب اس لئے آہستہ سے دیتا تھا کہ آپ ہم پر متعدد بار سلام کریں۔
(سنن ابی داود ، کتاب الادب،باب کم مرۃ یسلم الرجل فی الاستئذان، الحدیث: ۵۱۸۵،ج۴،ص۴۴۵)
محافظتِ یادگارِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم: صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانہ میں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی یادگاریں محفوظ تھیں جن کووہ جان سے زیادہ عزیز رکھتے تھے اور ان سے برکت حاصل کرتے تھے۔ حضرت علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ جب ہم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ