Brailvi Books

سگِ مدینہ کہنا کیسا؟
44 - 45
 بات چیت کرتے وقت'' پردے کی جگہ'' ہاتھ لگانا، انگلیوں کے ذَرِیعے بدن کا میل چُھڑانا، دوسروں کے سامنے با ربار ناک کوچھونا یاناک یا کان میں انگلی ڈالنا ، تھوکتے رہنا اچھی بات نہیں ، اس سے دو سرو ں کوگِھن آتی ہے (6)جب تک دوسرا بات کر رہا ہو،اطمینان سے سنئے۔ اس کی بات کاٹ کر اپنی بات شرو ع کر دینا سنّت نہیں (7) بات چیت کرتے ہوئے قہقہہ نہ لگائیے کہ سر کار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا (8)زیادہ باتیں کرنے اور بار بار قہقہہ لگانے سے وقار مجرو ح ہوتا ہے (9) سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کافرمان عالیشان ہے: ''جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ اسے دُنیا سے بے رغبتی اور کم بولنے کی نعمت عطا کی گئی ہے تو اس کی قربت وصحبت اختیار کرو کیونکہ اسے حکمت دی جاتی ہے۔''
(سنن ابن ماجہ،ج۴،ص۴۲۲حدیث ۴۱۰۱)
 (10 ) حدیثِ پاک میں ہے: '' جو چُپ رہا اُس نے نَجات پائی ۔''
(سُنَنُ التِّرْمِذِی ّج۴ ص۲۲۵، حدیث ۲۵۰۹دار الفکر بیروت )
 (11)کسی سے جب بات چیت کی جائے تو اس کا کوئی صحیح مقصدبھی ہونا چاہیے اور ہمیشہ مخاطب کے ظرف اور اس کی نفسیات کے مطابق بات کی جائے
Flag Counter