Brailvi Books

راہِ خدا میں خرچ کرنے کے فضائل
25 - 41
حدیث ۶۰ ـ: کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :
    ''إن أحب الطعام إلی اللہ (تعالٰی) ما کثرت علیہ الأیدی''۔ رواہ أبویعلٰی و الطبراني و أبوالشیخ عن جابر رضي اللہ تعالٰی عنہ (۱)۔
ان حدیثوں سے ثابت ہو اکہ جو مسلمان اس عمل میں نیک نیّت، پاک مال سے شریک ہوں گے انھیں کرمِ الٰہی و انعام حضرت رسالت پناہی تعالٰی ربہ، و تکرم و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ۲۵ فائدے ملنے کی امید ہے :

i۔ باذنہٖ تعالیٰ بری موت سے بچیں گے۔ حدیث ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۱۹،۲۱،۲۲،۲۷،۲۸

(گیارہ حدیثیں) ستّر دروازے بُری موت کے بند ہونگے ۔حدیث ۶۔

ii۔ عمریں زیادہ ہوں گی۔ حدیث ۳،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،،۲۳،۲۴،۲۶،۲۸،(نو حدیثیں)۔ 

iii۔ ان کی گنتی بڑھے گی۔ حدیث ۲۵ ۔ یہ تین فائدے خاص دفعِ وبا سے متعلق ہیں۔

iv۔ رزق کی وسعت، مال کی کثرت ہوگی ۔حدیث ۱۳،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۵( چھ حدیثیں)

v۔ خیر وبرکت پائیں گے۔حدیث ۵۰،۵۱،۵۶،۵۷،۵۸( پانچ حدیثیں )، یہ دونوں 

فائدے دفعِ قحط سے متعلق ہیں۔
۱۔''بے شک اللہ عزّوجل کی بارگاہ میں سب سے زیادہ محبوب کھانا وہ ہے    جس پر بہت سے ہاتھ ہوں''(یعنی کھانے والوں کی کثرت ہو)اسے ا بو یعلی اورطبرانی اور ابو الشیخ نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ( الترغیب و الترھیب ، کتاب الطعام، باب الترغیب في الاجتماع علی الطعام، ج۳،ص ۹۸، الحدیث:۵، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
Flag Counter