Brailvi Books

راہِ خدا میں خرچ کرنے کے فضائل
19 - 41
    مرقاۃ شریف میں ہے :
''إطعام الطعام أي إعطاء ہ للأنام من الخاص و العام''(۱)۔
حدیث۴۷ : کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :
    ''الکفارات إطعام الطعام و إفشاء السلام و الصلاۃ باللیل و الناس نیام''۔ رواہ الحاکم وصحح سند ہ عن أبي ھریرۃ
=مرسلاً حضرت عبدالرحمن بن سابط رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے(ابن أبي شیبۃ )حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی اللہ تعالیٰ کے دیدار والی روایت، جس میں ہے کہ '' اللہ تعالیٰ نے اپنی شایا نِ شا ن کف ِمبارک کو حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے کندھوں کے درمیان رکھا( حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام فرماتے ہیں) ''تو میرے لئے ہر چیز روشن ہوگئی اورمیں نے پہچان لی ''(العلیل المتناھیۃ ، باب في ذکر الصورۃ ، ج۱،ص۳۳، رقم الحدیث ۱۳،دار الکتب العلمیۃ ، بیروت )دوسری روایت میں ہے '' میں نے معلوم کرلی جو چیز بھی زمین و آسمان میں ہے '' (مجمع الزوائد،کتاب التعبیر، باب فیما رآہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم في المنام ، ج۷، ص۳۶۷،رقم الحدیث۱۱۷۳۹، دار الفکر، بیروت)اورایک روایت میں ہے '' مشرق ومغرب میں جو کچھ ہے '' (سنن الترمذي ،کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ (ص)، ج۵، ص۱۵۹، رقم الحدیث۳۲۴۵، دار الفکر، بیروت ) اورہم نے اس حدیث کو اس کے طُرق کی تفصیل اور اختلافِ الفاظ کو اپنی مبارک کتاب ''سلطنتِ مصطفی فی ملکوت کل الورٰ ی'' میں ذکر کردیا ہے ،الحميد للہ۔ 

۱۔ ''کھانا کھلانا یعنی ہر خاص وعام کو کھانا دینا مراد ہے''( "مرقاۃ المفاتیح" ،کتاب الصلاۃ ، باب المساجد، الفصل الثاني، ج۲، ص۴۳۲، الحدیث ۷۲۶، دارالفکر، بیروت)
Flag Counter