=مرسلاً حضرت عبدالرحمن بن سابط رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے(ابن أبي شیبۃ )حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی اللہ تعالیٰ کے دیدار والی روایت، جس میں ہے کہ '' اللہ تعالیٰ نے اپنی شایا نِ شا ن کف ِمبارک کو حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے کندھوں کے درمیان رکھا( حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام فرماتے ہیں) ''تو میرے لئے ہر چیز روشن ہوگئی اورمیں نے پہچان لی ''(العلیل المتناھیۃ ، باب في ذکر الصورۃ ، ج۱،ص۳۳، رقم الحدیث ۱۳،دار الکتب العلمیۃ ، بیروت )دوسری روایت میں ہے '' میں نے معلوم کرلی جو چیز بھی زمین و آسمان میں ہے '' (مجمع الزوائد،کتاب التعبیر، باب فیما رآہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم في المنام ، ج۷، ص۳۶۷،رقم الحدیث۱۱۷۳۹، دار الفکر، بیروت)اورایک روایت میں ہے '' مشرق ومغرب میں جو کچھ ہے '' (سنن الترمذي ،کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ (ص)، ج۵، ص۱۵۹، رقم الحدیث۳۲۴۵، دار الفکر، بیروت ) اورہم نے اس حدیث کو اس کے طُرق کی تفصیل اور اختلافِ الفاظ کو اپنی مبارک کتاب ''سلطنتِ مصطفی فی ملکوت کل الورٰ ی'' میں ذکر کردیا ہے ،الحميد للہ۔
۱۔ ''کھانا کھلانا یعنی ہر خاص وعام کو کھانا دینا مراد ہے''( "مرقاۃ المفاتیح" ،کتاب الصلاۃ ، باب المساجد، الفصل الثاني، ج۲، ص۴۳۲، الحدیث ۷۲۶، دارالفکر، بیروت)