| راہِ خدا میں خرچ کرنے کے فضائل |
مسئلہ از کانپور، مدرسہ فیض عام ،مرسلہ مولوی احمد اللہ تلمیذ مولوی احمد حسن صاحب ۱۷ رَبیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے دیار(۱) میں اسطرح کا رواج ہے کہ کوئی بلا دمیں ہیضہ ، چیچک و قحط سالی وغیرہ آجائے تو دفعِ بلا کے واسطے جمیع (۲) محلہ والے مل کر فی سبیل اللہ اپنی اپنی حسبِ استطاعت، چاول، گیہوں و پیسہ وغیرہ اٹھا کر کھانا پکاتے ہیں اورمولویوں اورمُلّاؤں کو بھی دعوت کر کے ان لوگوں کو بھی کھلاتے ہیں اورجمیع محلہ دار بھی کھاتے ہیں ، آیا اس صور ت میں محلہ دار کوطعامِ مطبوخہ (۳) کا کھانا جائز ہوگا یا نہ؟طعام ِ مطبوخہ کھانے کے لئے مانع وغیر مانع(۴) پر کیا حکم دیا جاتاہے ؟
بینوا توجروا(۵)۔
الجواب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ الذي وضع البرکۃ في جماعۃ الإخوان و قطع الھلکۃ بتواصل الأحباء و الجیران و الصلاۃ و السلام علی۱۔شہر یا علاقہ ، یہاں مراد بنگالہ ہے کہ یہ سوال کانپور میں وہیں سے آیا تھا اورکانپور سے جواب لکھنے کے لئے بریلی بھیجاگیا ۔ ۲۔تمام ۳۔پکا ہوا کھانا ۴۔ رکاوٹ ڈالنے والے اور نہ ڈالنے والے ۵۔ بیان کر و تاکہ اجر دئيے جاؤ۔