ان آٹھ کاموں کے بارے میں شرکاءِ قافلہ میں سے ہرایک اسلامی بھائی سے صرف ایک ہی کام پر مشورہ لیا جائے ،مشورہ مشورے کے طور پر ہی ہونا چاہیئے تاکہ اسلامی بھائی مذاق نہ بنائیں۔
مشورہ سیدھی جانب سے اِس طرح لینا ہے مثلاً امیرِ قافلہ شرکاء سے یوں پوچھے'' شاہدبھائی آپ مشورہ دیں ظہر کا درس کس اسلامی بھائی سے کروایا جائے'' اب شاہدبھائی یوں عرض کریں'' میرا ناقص مشورہ ہے کہ ظہر کا درس عقیل بھائی سے کروالیا جائے آگے جیسے آپ کی مرضی''۔اب امیرِ قافلہ دوسرے اسلامی بھائی سے عصر کے اعلان کا مشورہ لے،اب باری باری تمام شرکاء سے اسی طرح مشورہ لے۔امیر قافلہ کو چاہیئے کہ مشورہ لینے سے قبل شرکاء کو یہ ذہن دے کہ مشورہ دینے والا اسلامی بھائی اپنے مشورہ کے بارے میں بطورِ عاجزی کے ''ناقص مشورہ'' کا لفظ استعمال کرے۔ جس اسلامی بھائی کو ذمہ داری دینے کے بارے میں مشورہ دیا جائے، وہ ''اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَل'' کہے جبکہ دیگر اسلامی بھائی ہر مرتبہ مشورہ دینے پر (ذکر اللہ عزوجل کی نیّت سے )سُبْحَا نَ اللہ عزَّوَجَل ضرور کہیں ۔ اس طرح مشورہ دینے والے اور جس کے بارے میں مشورہ دیا گیادونوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوجائیگی ۔امیر قافلہ کو چاہیئے کہ شرکاء کا یہ بھی ذہن بنائے کہ مشورہ دینے والااسلامی بھائی جب کسی ذمہ داری کے بارے میں مشورہ دے تو اپنے علاوہ دیگرموجود شرکاء ِقافلہ کے بارے میں ہی مشورہ دے۔
پیارے اسلامی بھائیو! مشورہ کرنے کے اس طریقہ پر عمل کرنے کی برکت سے اَجْنَبِيت محسوس کرنے والے اسلامی بھائی مدنی قافلے والوں کے ساتھ گُھل مِل جائیں گے اوراُن سے مشورہ لینے سے اُن کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ مشورہ دینے والے