والوں کے لئے اور امت مسلمہ کے لئے دعائے خیر کروں گا (۵۵،۵۶)جس مسجد میں قیام ہوگا اس مسجد اور وہاں کے وضو خانے کی صفائی کروں گا(۵۷)اگر کسی نے بلاوجہ سختی کی تب بھی صبر کروں گا (۵۸ ،۵۹) تھکن وغیرہ کے سبب غصّہ آگیا تو زبان کا قفل ِمدینہ لگا تے ہوئے ضبط کروں گا (۶۰،۶۱،۶۲)اگر مسجد میں مدنی قافلہ کو قیام کی اجازت نہ ملی تو کسی سے الجھنے کے بجائے اس کو اپنے اخلاص کی کمی تصور کروں گا اور مدنی قافلے کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعائے خیر کرتا ہوا پلٹوں گا (۶۳)اگر کوئی جھگڑا کریگا تو حق پر ہونے کے باوجود اس سے جھگڑا نہ کر کے حدیث پاک میں دی ہوئی بشارت مصطفےٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا حقدار بنوں گا :''جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا ترک کردے اسکے لئے جنّت کے درمیان میں مکان بنایا جائے گا ۔''( سنن الترمذی ،ج ۳ ، ص ۴۰۱ ، الحدیث ۲۰۰۰) (۶۴،۶۵)اگر کسی نے ظلماًمارابھی تو جوابی کاروائی کرنے کے بجائے شکر ادا کروں گا کہ راہِ خداعَزَّوَجَل میں مار کھانے والی سنت بلالی اداہوئی (۶۶،۶۷،۶۸) اگر میری وجہ سے کسی مسلمان کی دل آزاری ہو گئی تو اسی وقت احسن طریقے پر معافی مانگوں گا (۶۹،۷۰،۷۱)چونکہ ہر وقت ساتھ رہنے میں حق تلفیوں کا زیادہ امکان رہتا ہے لہٰذا واپسی پر انتہائی لجاجت کے ساتھ فرداًفرداًمعافی تلافی کروں گا (۷۲)سفر سے واپسی پر گھر والوں کے لئے تحفہ لے جانے کی سنت ادا کروں گا ۔سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا ،''جب سفر سے کوئی واپس آئے تو گھر والوں کے لئے کچھ نہ کچھ ہدیّہ لائے،اگرچہ اپنی جھولی میں پتھر ہی ڈال لائے۔''