Brailvi Books

رَہنمائے جدول
226 - 248
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے :''جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو سیدھے ہاتھ سے کھائے اور جب پئے تو سیدھے ہاتھ سے پئے کہ شیطان الٹے ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے ۔'
'(صحیح مسلم،کتاب الاشربۃ،باب آداب الطعام والشرب ،الحدیث۲۰۲۰،ص۱۱۱۷)
    (۸) اپنے سامنے سے کھائیں۔حضرتِ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا:''ہر شخص برتن کی اسی جانب سے کھائے جو اس کے سامنے ہو۔'
'(صحیح البخاری،کتاب الاطعمۃ،باب الاکل ممایلیہ،الحدیث۵۳۷۷،ج۳،ص۵۲۱)
    حضرت سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہفرماتے ہیں کہ ایک روز کھانا کھاتے ہوئے میرا ہاتھ پیالے میں ادھر اُدھر حرکت کر رہا تھا (یعنی کبھی ایک طرف سے لقمہ اٹھا یا کبھی دوسری طرف سے اور کبھی تیسری طرف سے لقمہ اٹھایا)جب اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے مجھے اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا:''اے لڑکے!بسم اللہ پڑھ کر دائیں ہاتھ سے کھایا کر اور اپنے سامنے سے کھایا کر ،چنانچہ اس کے بعد سے میرے کھانے کا طریقہ یہی ہو گیا۔
 (صحیح البخاری ،باب التسمیۃعلی الطعام ،ج۳،الحدیث ۵۳۷۶)
    (۹)کھانے میں کسی قسم کا عیب نہ لگائیں مثلاً یہ نہ کہیں کہ مزیدار نہیں ، کچا رہ گیا ہے ، پھیکا رہ گیا کیونکہ کھانے میں عیب نکالنامکروہ و خلافِ سنت ہے بلکہ جی چاہے تو کھائیں ورنہ ہاتھ روک لیں ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا (یعنی برا نہیں کہا) اگر خواہش ہوتی تو کھا لیتے اور خواہش
Flag Counter