Brailvi Books

رَہنمائے جدول
211 - 248
جب کنگھا فرماتے تو پہلے سیدھی جانب سے شروع کرتے ، پھر بائیں جانب ۔نیز نعلین شریفین پہنتے وقت بھی پہلے سیدھے قدم مبارک کو نعل پاک میں داخل فرماتے پھربائیں قدم مکرم کو ۔ صرف ان تین کاموں ہی کی تخصیص نہیں،جتنے بھی تکریم کے کام ہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سیدھی جانب سے ہی شروع کرنا پسند فرماتے ۔ چنانچہ لباس پہننا ،مسجد میں داخل ہونا ، سر اور مونچھ وغیرہ کے بال تراشنا ، مسواک کرنا ، ناخن کاٹنا ، آنکھوں میں سرمہ ڈالنا ،کسی کوکوئی چیز دینا یاکسی سے لینا ، کھانا پینا وغیرہ وغیرہ کام سیدھے ہاتھ سے سیدھی جانب سے کرنے چاہیں۔

    (۱۰) سر کار مدینہ ،راحت قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ریش مبارک میں کنگھا کرتے وقت آئینے میں اپناروئے انور ملاحظہ فرماتے اور جب آئینہ میں اپنا چہرہ مبارک دیکھتے تو اس طر ح دعا کرتے۔
'' اَللّٰھُمَّ حَسَّنْتَ خَلْقِیْ فَحَسِّنْ خُلُقِیْ''
ترجمہ:اے اللہ عزوجل ! تونے میری صورت تو اچھی بنائی ہے میرے اخلاق بھی اچھے کردے ۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند سیدۃ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،الحدیث ۲۴۴۴۶،ج۹،ص۳۳۹)
    یقینایہ دعا اپنے غلاموں کی تعلیم کے لئے ہے کہ وہ اپنے اخلاق کی اصلاح کے لئے دعا کرتے رہاکریں، ورنہ ہمارے سر کار عالم مدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے اخلاق کریمہ کے تو کیا کہنے ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے حسن اخلاق کے توقرآن مجید میں چرچے ہیں۔چنانچہ پ۲۹،سورۃالقلم،آیت نمبر۴ میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾
ترجمہ کنزالایمان:اوربے شک تمہاری خُو بُو(خُلق) بڑی شان کی ہے۔(پ۲۹،القلم۴)
Flag Counter