Brailvi Books

رَہنمائے جدول
201 - 248
میں ڈال دینا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے ۔
 ( در مختارمع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۶۸)
    (۶)ناخن تر اش لینے کے بعد انگلیوں کے پورے دھولینے چاہیں ۔

    (۷) بغل کے بالوں کو اُکھاڑ نا سنت ہے او رمونڈنا گناہ بھی نہیں ۔
( در مختار مع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۷۱)
    (۸) ناک کے بال نہ اُکھاڑیں کہ اس سے مرض آکلہ پیدا ہوجانے کا خوف ہے ۔
 (الفتاویٰ الھنديہ ،کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع عشر فی الختان والحصا...الخ،ج۵،ص۳۵۸)
    (۹) گر دن کے بال مونڈنامکروہ ہے۔
 ( در مختار مع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۷۰)
یعنی جب کہ سر کے بال نہ مونڈائیں صرف گردن ہی کے مونڈائیں ۔ ہاں اگر پورے سر کے بال مونڈائیں تو اس کے ساتھ گردن کے بھی مونڈادیں ۔ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حجامت کے سوا گردن کے بال مونڈانے سے منع فرمایا ۔
 (المعجم الاوسط،الحدیث ۲۹۶۹،ج۲،ص۱۸۷)
    (۱۰) اَبرو کے بال اگر بڑے ہوجائیں تو ان کو تر شواسکتے ہیں ۔
 ( در مختار مع ردالمحتار ،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۷۰)
    (۱۱)داڑھی کا خط بنوانا جائز ہے ۔
 (ردالمحتار،ج۴،ص۶۷۱)
امامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ جلد 22 صفحہ 296پر لکھتے ہیں :''داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں، جبڑوں، ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضاً اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے۔ جس طرح بعض لوگوں کے کانوں پر رونگٹے ہوتے ہیں وہ داڑھی سے خارج ہیں، یوں ہی گالوں پر جو خفیف بال کسی کے کم کسی کے آنکھوں تک نکلتے ہیں وہ بھی داڑھی میں داخل نہیں ۔یہ بال قدرتی طور پر مؤئے ریش سے جدا وممتاز ہوتے ہیں ۔اس کا مسلسل راستہ جو قلموں کے نیچے سے ایک مخروطی شکل پر جانب ذقن جاتاہے یہ بال اس راہ سے جدا ہوتے ہیں، نہ ان میں موئے محاسن کے مثل قوت نامیہ ،ان کے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بسا اوقات ان کی پرورش باعث تشویہ خلق وتقبیح صورت ہوتی ہے جو شرعا ہر گز پسندیدہ نہیں۔

    (۱۲) ہاتھ ،پاؤں او رپیٹ کے بال دور کرناچاہیں تو منع نہیں ۔
 (بہارِ شریعت ،حصہ ۱۶،ص۱۹۷) 

    (۱۳) سینہ او رپیٹھ کے بال کاٹنا یامونڈنا اچھا نہیں ۔(المرجع السابق)         

    (۱۴) داڑھی بڑھانا سنن انبیاء ومرسلین علیہم السلام سے ہے ۔(بہار شریعت،حصہ۱۶، ص۱۹۷) مونڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے ۔'' ہا ں ایک مشت سے زائد ہوجائے تو جتنی زیادہ ہے اس کو کٹواسکتے ہیں۔''
 (درمختار مع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۷۱)
    (۱۵) مونچھوں کے دونوں کناروں کے بال بڑے بڑے ہوں تو حرج
Flag Counter