میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ بالا سے پتا چلا کہ چالیس دن کے اندر اندر یہ کام ضرورکرلیناچاہیے۔ ہفتہ میں ایک بار نہانا او ربد ن کو صاف ستھرا رکھنا اورموئے زیرِ ناف دور کرنا مستحب ہے ۔ پندر ہویں روز کرنا بھی جائز ہے اور چالیس رو ز سے زیادہ گزار دینا مکرو ہ و ممنوع ہے ۔ (بہار شریعت،حصہ۱۶،ص۱۹۶)پیارے اسلامی بھائیو! ہوسکے تو ہر جمعہ کو یہ کام کر ہی لینے چاہیں کیونکہ ایک حدیثِ مبارک میں ہے کہ حضور تا جدارِ مدینہ ، راحتِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمجمعہ کے دن نماز کے لئے جانے سے پہلے مونچھیں کترواتے اور ناخن ترشواتے ۔
(شعب الایمان ،با ب فی الطھارات ،فصل الوضوء ،الحدیث ۲۷۶۳،ج۳،ص۲۴)
ہاتھوں کے ناخن تراشنے کا طریقہ:
ہاتھوں کے ناخن تر اشنے کے دو طریقے یہاں بیان کئے جاتے ہیں ان دونوں میں سے آپ جس طریقے پربھی عمل کریں گے ان شآء اللہ عزوجل سنت کا ثواب پائیں گے ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کبھی ایک پر عمل کرلیں کبھی دو سرے پر ۔ اس طر ح دونوں حدیثوں پر عمل ہوجائے گا ۔ چنانچہ ذیل میں دونوں طریقے پیش کئے جاتے ہیں:
(۱) مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضی شیرِخداکَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے ناخن کاٹنے کی یہ سنت منقول ہے کہ سب سے پہلے سیدھے ہاتھ کی چھنگلیا ، پھربیچ والی ، پھر انگوٹھا ، پھر منجھلی(یعنی چھنگلیا کے برابر والی) پھرشہادت کی انگلی۔ اب بائیں ہاتھ میں پہلے انگوٹھا ،پھر بیچ والی ،پھر چھنگلیا، پھرشہادت کی انگلی، پھر منجھلی ۔یعنی سیدھے