Brailvi Books

رَہنمائے جدول
192 - 248
سرمہ لگانے کی سنتیں اور آداب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! 

    سرمہ لگانا ہمارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی نہایت ہی پیاری پیاری اور میٹھی میٹھی سنت ہے ۔ سر کا ر نامدار ، مدینے کے تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم جب سونے لگتے تو اپنی مبارک آنکھوں میں سرمہ لگایاکرتے ۔ لہذاہمیں بھی سو نے سے پہلے اتباعِ سنت کی نیت سے اپنی آنکھوں میں سرمہ لگانا چاہيے ۔ اس سے ہمیں سرمہ لگانے کی سنت کابھی ثواب ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ اس کے دنیوی فوائد بھی حاصل ہوں گے ۔

سو تے وقت سر مہ ڈالناسنت ہے:

    سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سرمہ سوتے وقت استعمال فرماتے تھے چنانچہ حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں کہ تا جدارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سو نے سے پہلے ہر آنکھ میں سرمہ اثمد کی تین سلائیاں لگایا کرتے تھے ۔''
(جامع الترمذی ،کتاب اللباس،باب ماجاء فی الاکتحال ،الحدیث۱۷۶۳،ج۳،ص۲۹۴)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث پاک سے معلوم ہو اکہ سرمہ سو تے وقت استعمال کرنا سنت ہے۔
(مراٰۃالمناجیح ،ج۶،ص۱۸۰)
 لہذا ہم رات کو جب بھی سویا کریں ہمیں سرمہ لگانا نہ بھولنا چاہيے۔سوتے وقت سرمہ لگانے میں یہ مصلحت ہے کہ سرمہ زیادہ دیر تک آنکھوں میں رہتا ہے اور آنکھوں کے مسامات میں سرایت کر کے آنکھوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ۔

سرمہ اِثمدبہتر ہے:

        ابن ماجہ کی روایت میں ہے '' تمام سرموں میں بہتر سرمہ ''اِثمد'' ہے کہ یہ نگاہ کو روشن کرتا اور پلکیں اُگا تا ہے ۔''
(سنن ابن ماجہ،کتاب الطب،باب الکحل بالاثمد،الحدیث۳۴۹۷،ج۴،ص۱۱۵)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سرمہ اثمد کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ سرمہ آمنہ بی بی رضی اللہ عنہا کے دلارے، ہم بے کسو ں کے سہارے ،محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو پسند ہے ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اسے خود بھی استعمال فرمایا او راپنے غلاموں کو اس کے استعمال کی ترغیب بھی دلائی اور اس کے فوائد بھی ارشاد فرمائے ۔ لہذا ہوسکے تو سرمہ اثمد ہی استعمال کرنا چاہيے۔احادیث بالاسے یہ بھی معلوم ہواکہ سرمہ اثمد بینائی کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ پلکوں کے بال بھی اُگاتا ہے ۔کہاجاتا ہے
Flag Counter