مزید شیخ المشائخ بابا فرید الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :قیامت کے دن بہت سارے گناہگار، بزرگان دین رحمہم اللہ تعالیٰ کی دست بو سی کی برکت سے بخشے جائیں گے اور دوزخ کے عذاب سے نجات حاصل کریں گے۔
(اسرار اولیاء مع ہشت بہشت،ص۱۱۳)
(۷)دو نوں ہاتھوں سے مصافحہ کریں۔(بہارشریعت ،حصہ ۱۶،ص۹۸)
(۸)جتنی بار ملاقات ہو ہر بار مصافحہ کرنا مستحب ہے۔(بہارشریعت،حصہ ۱۶،ص۹۷)
(۹)رخصت ہوتے وقت بھی مصافحہ کریں۔صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی لکھتے ہیں: ''اس کے مسنون ہونے کی تصریح نظر فقیر سے نہیں گزری مگر اصل مصافحہ کا جواز حدیث سے ثابت ہے تو اس کو بھی جائز ہی سمجھا جائے گا۔(بہار شریعت،حصہ ۱۶،ص۹۸)
(۱۰) فقط انگلیوں کے چھونے کا نام مصافحہ نہیں ہے سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جائے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابین کپڑا وغیرہ کوئی چیز حائل نہ ہو۔
( بہار شریعت،حصہ۱۶،ص۹۸)
(۱۱)مصافحہ کرتے وقت سنت یہ ہے کہ ہاتھ میں رومال وغیرہ حائل نہ ہو، دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں اور ہتھیلی سے ہتھیلی ملنی چاہے۔(بہار شریعت،سلام کا بیان،حصہ ۱۶،ص۹۸)
(۱۲) مسکراکرگرم جوشی سے مصافحہ کریں۔ درود شریف پڑھیں اور ہوسکے تو یہ دعا بھی پڑھیں'' یَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ'' (یعنی اللہ عزوجل ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے)۔
(۱۳)ہر نماز کے بعدلوگ آپس میں مصافحہ کرتے ہیں یہ جائز ہے ۔
(ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع ،ج۹،ص۶۸۲)
(۱۴)گلے ملنے کو معانقہ کہتے ہیں او ریہ بھی سر کار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے ثابت ہے۔(بہار شریعت،سلام کا بیان،حصہ ۱۶،ص۹۸)
(۱۵)صرف تہبند باندھ کر یا پاجامہ پہنے ہوں اس وقت معانقہ نہ کریں بلکہ کُرتا