Brailvi Books

رَہنمائے جدول
160 - 248
میں مشغول ہوں یاا نتظارِ نماز میں بیٹھے ہوں ان کو سلام نہ کریں ۔ یہ سلام کا موقع نہیں نہ ان پر جواب واجب ہے ۔
(الفتاویٰ الہندیہ ،کتاب الکراہیۃ،باب السابع فی السلام وتشمیت العاطس،ج۵،ص۲۲۵)
     امامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ جلد 23صفحہ 399 پر لکھتے ہیں :ذاکر پر سلام کرنا مطلقًا منع ہے اور اگر کوئی کرے تو ذاکر کواختیار ہے کہ جواب دے یا نہ دے۔ ہاں اگر کسی کے سلام یا جائز کلام کا جواب نہ دینا اس کی دل شکنی کا موجب(یعنی سبب) ہو تو جواب دے کہ مسلمان کی دلداری وظیفہ میں بات نہ کرنے سے اہم واعظم ہے۔ 

    (۳۳) کوئی اسلامی بھائی در س وتدریس یا علمی گفتگویا سبق کی تکرار میں ہے اس کو سلام نہ کریں ۔(بہار شریعت،سلام کا بیان،حصہ ۱۶،ص۹۱)

    (۳۴)اجتماع میں بیان ہو رہا ہے،اسلامی بھائی سن رہے ہیں آنے والاسلام نہ کرے۔ 

    (۳۵)جوپیشاب، پاخانہ کر رہاہے ،یاپیشاب کرنے کے بعد ڈھیلا لئے جائے پیشاب سکھانے کے لئے ٹہل رہا ہے ،غسل خانے میں برہنہ نہا رہا ہے ، گانا گار ہا ہے ، کبوتراڑارہا ہے یاکھانا کھارہا ہے ان سب کو سلام نہ کریں۔
 (بہار شریعت،سلام کا بیان،حصہ ۱۶،ص۹۱)
    (۳۶) جن صورتوں میں سلام کرنا منع ہے اگر کسی نے کر بھی دیاتو ان پر جواب واجب نہیں ۔(بہار شریعت،سلام کا بیان،حصہ ۱۶،ص۹۱) 

    (۳۷)کھانا کھانے والے کو سلام کردیا تو منہ میں اس وقت لقمہ نہیں توجواب دے دے ۔

    (۳۸)سائل(بھکاری) کے سلام کاجواب واجب نہیں ( جبکہ بھیک مانگنے کی غر ض سے آیا ہو)۔(بہار شریعت،سلام کا بیان،حصہ ۱۶،ص۹۰)

اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل ہمیں سلام کی بر کتو ں سے مالا مال فرما ۔
    اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
Flag Counter