اگر کسی نے زبان سے سلام کے الفاظ کہے اور ساتھ ہی ہاتھ بھی اٹھادیا تو پھر مضایقہ نہیں۔'' (احکام شریعت،ص۶۰)
(۲۲)سلام اتنی اونچی آواز سے کریں کہ جس کو کیا ہو وہ سن لے ۔
(بہار شریعت،سلام کا بیان،حصہ ۱۶،ص۹۰)
(۲۳)سلام کا فوراً جواب دینا واجب ہے ۔ اگر بلا عذر تا خیر کی تو گناہ گارہوگا اور صرف جواب دینے سے گناہ معاف نہیں ہوگا ، تو بہ بھی کرنا ہوگی۔(ردالمحتار مع درمختار ،ج۹،ص۶۸۳)
(۲۴) جواب اتنی آواز سے دینا واجب ہے کہ سلام کرنے والا سن لے ۔ (بہارشریعت،سلام کا بیان،حصہ ۱۶،ص۹۲)
(۲۵)غیر مسلم کوسلام نہ کریں وہ اگر سلام کرے تو اس کا جواب واجب نہیں، جواب میں فقط''وَعَلَیْکُمْ'' کہہ دیں۔(بہار شریعت،سلام کا بیان،حصہ ۱۶،ص۹۰)
(۲۶)سلام کرتے وقت حد ر کوع تک (اتنا جھکنا کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنو ں تک پہنچ جائیں) جھک جاناحرام ہے اگر اس سے کم جھکے تو مکروہ ۔(بہار شریعت،سلام کا بیان،حصہ ۱۶،ص۹۲)
بدقسمتی سے آج کل عام طو ر پر سلام کرتے وقت لوگ جھک جاتے ہیں ۔ البتہ کسی بزرگ کے ہاتھ چومنے میں حرج نہیں بلکہ ثواب ہے اور یہ بغیر جھکے ممکن نہیں یہاں ضرورت ہے ۔ جبکہ سلام کے وقت جھکنے کی حاجت نہیں ۔