Brailvi Books

رَہنمائے جدول
154 - 248
''خدا حافظ''،'' اچھا'''' بائی بائی '' وغیرہ کلمات کہتا ہے لہذا مجلس کے اختتام پر ان سب الفاظ کے بجائے سلام کیا کریں ۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں :'' جس وقت تم میں سے کوئی کسی مجلس کی طرف پہنچے ،سلام کہے ۔ اگر ضرورت محسوس کرے ، وہاں بیٹھ جائے ۔ پھر جب کھڑا ہوسلام کہے اس لئے کہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ بہتر نہیں ہے ۔''
 (جامع الترمذی،کتاب الاستئذان،باب ما جآء فی التسلیم عند القیام وعندالقعود،الحدیث۲۷۱۵،ج۴،ص۳۲۴)
    (۱۷)اگر کچھ لوگ جمع ہیں ایک نے آکر
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ
کہا ۔ تو کسی ایک کا جواب دے دینا کافی ہے ۔ اگر ایک نے بھی نہ دیا تو سب گنہگار ہوں گے ۔ اگر سلام کرنے والے نے کسی ایک کانام لے کر سلام کیا یا کسی کو مخاطَب کر کے سلام کیا تو اب اسی کو جواب دینا ہوگا ۔ دوسرے کاجواب کافی نہ ہوگا۔

(ماخوذازبہار شریعت،سلام کا بیان،حصہ ۱۶،ص۸۹)

    حضرت مولا علی کَرَّمَ اللہُ وَجْھَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے '' جب کوئی شخص گزرتے ہوئے سلام کہہ دے اور بیٹھنے والوں میں سے ایک شخص جواب دے تو سب لوگوں کی طرف سے کفایت کرجاتا ہے ۔ـ''
 (سننِ ابی داؤد،کتاب الادب ،باب ما جآء فی رد واحد عن الجماعۃ،الحدث۵۲۱۰،ج۴،ص ۴۵۲)
    (۱۸) اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہنے سے دس نیکیاں ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَۃُ اللہْ کہنے سے بیس نیکیاں جبکہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَ کَاتُہ کہنے سے تیس نیکیا ں ملتی ہیں۔ چنانچہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضورتاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے عرض کیا ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ، دس نیکیاں لکھی گئی ہیں۔ پھر دو سرا حاضر ہوا اس نے عرض کیا ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ ''۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کو جواب دیا ،وہ بھی بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :بیس نیکیاں لکھی گئی ہیں ۔پھر ایک اور آدمی حاضر خدمت ہوا ، اس نے عرض کیا:اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَ کَاتُہ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ
Flag Counter