(۴)سلام کرنا حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی بھی سنت ہے ۔(مراٰۃ المناجیح ،ج۶،ص۳۱۳)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سید دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: '' جب اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا فرمایا تو انہیں حکم دیا کہ جاؤ او رفرشتو ں کی اس بیٹھی ہوئی جماعت کو سلام کرو۔ اور غور سے سنو! کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں ۔ کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہے ۔حضرت سیدنا آدم علیہ السلام نے فرشتو ں سے کہا :
''اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللہِ'
' اور انہوں نے'' وَرَحْمَۃُ اللہِ ''کے الفاظ زائد کہے ۔''
( صحیح البخاری ،کتاب الاستئذان ،باب بدء السلام،الحدیث۶۲۲۷،ج۴،ص۱۶۴)
(۵)عام طو ر پرمعروف یہی ہے کہ '' اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ '' ہی سلام ہے ۔مگر سلام کے دو سرے بھی بعض صیغے ہیں ۔ مثلاً کوئی آکر صرف کہے ''سلام'' تو بھی سلام ہوجاتا ہے او ر'' سلام'' کے جواب میں،''سلام '' کہہ دیا ، یا ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ'' ہی کہہ دیا ،یا صرف '' وَعَلَیْکُمْ '' کہہ دیا تو بھی جواب ہوگیا۔''
(ماخوذازبہارِ شریعت،حصہ۱۶،ص۹۳)
(۶) سلام کرنے سے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :'' تم جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک تم ایمان نہ لاؤ اور تم مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم ایک