| رَہنمائے جدول |
میٹھے میٹھے اسلا می بھا ئیو !
سلا م کر نا ہمارے پیا ر ے آقا،تا جدا ر مد ینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی بہت ہی پیار ی سنت ہے(بہارِ شریعت ،حصہ ۱۶،ص۸۸)، بدقسمتی سے آ ج کل یہ سنت بھی ختم ہو تی نظر آرہی ہے ۔اسلامی بھائی جب آپس میں ملتے ہیں تواَلسَّلَا مُ عَلَیْکُمْ
سے ابتدا کرنے کے بجائے ''آداب عرض'' کیا حال ہے ؟'' مزاج شریف '' صبح بخیر''،'' شام بخیر ''وغیرہ وغیرہ عجیب وغریب کلمات سے ابتداء کرتے ہیں، یہ خلافِ سنت ہے ۔ رخصت ہوتے وقت بھی ''خدا حافظ''''گڈبائی''''ٹاٹا''وغیرہ کہنے کے بجائے سلام کرنا چاہے۔ ہاں رخصت ہوتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بعد اگر خدا حافظ کہہ دیں تو حرج نہیں ۔سلام کی چند سنّتیں اور آداب ملاحظہ ہوں:
(1) سلام کرنے والے کو اس سے بہتر جواب دینا چاہے ۔اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحْسَنَ مِنْہَاۤ اَوْ رُدُّوۡہَا ؕ
ترجمہء کنزالایمان : اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو تم اس سے بہترلفظ جواب میں کہو یا وہی کہہ دو ۔(پ ۵،النسا:۸۶)
(2)سلام کے بہترین الفاظ یہ ہیں
''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ
یعنی تم پر سلامتی ہواور اللہ عزوجل کی طر ف سے رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔