( جامع الترمذی شریف ،کتاب الدعوات ،باب ماجا ء فی فضل الدعا ،الحديث ۳۳۸۲،ج۵،ص۲۴۳)
دعا مومن کا ہتھیار ہے:
تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمايا:
اَلدُّعَآءُ سِلَاحُ الْمُؤمِنِ وَعِمَادُالدِّیْنِ وَنُوْرُالسَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
ترجمہ: دعامومن کا ہتھیار ہے اور دین کا ستون اور آسمان وزمین کا نور ہے۔
(المستدرک، کتاب الدعاء ،باب الدعا ء سلاح المومن ،الحديث ۱۸۵۵، ج ۲،ص۱۶۲)
ایک اور حدیث پاک میں ارشادفرمايا:''کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دے اور تمہارا رزق وسیع کر دے ۔رات دن اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہو کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔''
دعادافع بلا ہے:
مکی مدنی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان مشکبارہے: ''بلا اترتی ہے پھر دعا اُس سے جاملتی ہے ۔ پھر دونوں قیامت تک جھگڑا کرتی رہتی ہیں۔ یعنی دعا اُس بلا کو اترنے نہیں دیتی۔''
(ا لمستدرک ،کتاب الدعا ء، باب الدعا ء ینفع الخ، الحديث ۱۸۵۶، ج ۲، ص ۱۶۲ )