Brailvi Books

رَہنمائے جدول
112 - 248
(۱) وقت کی قد ر
    اللہ عَزَّوَجَل نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صدقے میں ایمان عطافرمایا۔ہمارے لئے اس دنیا میں طرح طرح کی نعمتیں پیدا فرمائیں ۔جس طرح چاند ، سورج،ہوا ، پانی یہ سب اس کی عظیم نعمتیں ہیں۔ پیارے اسلامی بھائی ! اِسی طرح وقت اور زندگی بھی اللہ عَزَّوَجَل کی نعمت ہے۔ کھوئی ہوئی دولت تو دوبارہ حاصل ہوسکتی ہے ، مگر کھویا ہوا وقت لاکھ کوشش کے باوجود واپس نہیں آسکتا ۔حضرت سیدنا معقل بن یساررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ئ پاک ،صاحب لولا ک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا،'' کوئی دن ایسا نہیں جو دنیا میں آئے اور وہ یہ نداء نہ کرے ،''اے ابن ِ آدم! میں تیرے ہاں جدید مخلوق ہوں ، آج تُو مجھ میں جو عمل کریگا میں کل قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا ، تُو مجھ میں نیکی کر تاکہ میں تیرے لئے کل قیامت میں نیکی کی گواہی دوں ، میرے چلے جانے کے بعد تو کبھی مجھے نہ دیکھ سکے گا۔''
 (حلیۃ الاولیاء، الحدیث ۲۵۰۱، ج۲، ص ۳۴۴ )
    دنیا میں وہی لوگ کامیاب ٹھہرے جنہوں نے وقت کی قدر کی۔ اللہ عَزَّوَجَل کے فضل و کرم سے اور وقت کی قدر کرنے کی برکت سے عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ''غوث الاعظم''کہلائے، علی ہجویری رضی اللہ تعالیٰ عنہ''داتا گنج بخش'' مشہور ہوئے اور معین الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ''خواجہ غریب ِنواز '' بننے کا اعزاز پایا۔

    پیارے اسلامی بھائی ! ہمیں چاہیے کہ اپنے وقت کو اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت میں گزاریں اور اس کے لئے نیک صحبت  کا
Flag Counter