Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 33: بُرائی کا بدلہ اچھائی سے دیجئے
27 - 27
 چمکانے کی غرض سے اپنے آپ کو دعوتِ اسلامی والا ظاہر کرتے ہیں ۔  یہی حال ان عامِل حضرات کا بھی ہے جو عمامہ پہن کر عملیات  کرتے  اور لوگوں سے مال بٹورتے ہیں بلکہ بعض لوگ تو ایسے بیباک ہوتے ہیں کہ شخصیات کے نام کی خود ساختہ تحریر بنا کر ، لوگوں کو دِکھا  کر یا رِشتہ جتا کر لوگوں سے مال جمع کرتے ہیں ۔  ایسے لوگ ہرگز دعوتِ اسلامی والے نہیں بلکہ ان کی ایسی حَرکات سے دعوتِ اسلامی کے عظیم مدنی کام کو نُقصان پہنچتا ہے ۔   
خَلق کے رہبر ، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رُوح پَرور ہے : کچھ لوگ بھلائی کے پھیلنے اور بُرائی کو روکنے کا ذَریعہ ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بُرائی پھیلنے اور بھلائی میں رُکاوٹ کا ذَریعہ ہوتے ہیں ، سو خوشخبری ہے اُن لوگوں کے لیے جنہیں اللہتعالیٰ نے خیر کے پھیلنے کا ذَریعہ بنایا اور ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو بُرائی پھیلنے کا سبب ہو گئے ۔ ( 1 )اس حدیثِ پاک سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو اپنے آپ کو دعوتِ اسلامی والا ظاہر کر کے  لوگوں سے مال نکلواتے اور اپنی ان حَرکات سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں  میں رکاوٹ کا سبب بن کر دِینِ اِسلام  کو نُقصان پہنچاتے ہیں ۔     
                          اللہ اِس سے پہلے ایماں پہ موت دیدے                   
                                    نُقصاں مِرے سبب سے ہو سُنَّتِ نبی کا 	( وسائلِ  بخشش )


________________________________
1 -    ابنِ ماجه ، کتابُ السنة ، باب من کا ن مفتاحا للخیر ، ۱ / ۱۵۵ ، حدیث : ۲۳۷