مالِ وَقف میں ناحق تَصَرُّف کرنے والوں کے لیے اَحادیثِ مُبارَکہ میں سخت وَعیدات بیان فرمائی گئی ہیں چُنانچہ رَاحتِ قَلبِ ناشاد، محبوبِ ربّ العباد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا اِرشادِ عِبرت بُنیاد ہے : کچھ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مال میں ناحق تَصَرُّف کرتے ہیں ، قِیامت کے دن ان کے لیے جہنَّم ہے ۔ ( ) ایک اور حدیثِ پاک میں سُلطانِ اِنس و جان ، سَرورِ ذِیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے : کتنے ہی لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسُول ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) کے مال میں سے جس چیز کو ان کا دِل چاہتا ہے اپنے تَصَرُّف میں لے آتے ہیں، قِیامت کے دن ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے ۔ ( 1 )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بدن پر ہلکے اور میزان میں بھاری عمل :
حضرتِ سیِّدُنا ابو ذَر غِفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے کوئی نصیحت فرمائیے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’میں تمہیں حُسنِ اَخلاق اپنانے اور خاموش رہنے کی نصیحت کرتا ہوں، یہ دونوں عمل بَدن پر سب سے ہلکے اور میزان ( Scale ) میں بہت بھاری ہیں ۔ ‘‘ ( کنزالعمال، کتاب الاخلاق، الجزء : ۳، ۲ / ۲۶۵، حدیث : ۸۴۰۲ )
________________________________
1 - بخاری، کتاب فرض الخمس، باب قول اللّٰہ تَعَالٰی...الخ ، ۲ / ۳۴۸ ، حدیث : ۳۱۱۸
2 - ترمذی ، کتاب الزھد ، باب ما جاء فی أخذ المال (ت : ۴۱)، ۴ / ۱۶۵، حدیث : ۲۳۸۱