سے قصاص لیتے(یعنی قتل کے بدلے قتل کرتے) یا پھر دیت (یعنی سو اونٹوں) پر صلح کرلیتے لیکن یہ دونوں کام نہ کئے بلکہ سو اونٹ ان کے گھر والوں کے لئے بھجوائے۔ یہ بزرگ واقعی حلم وبر دباری کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔یہ بزرگ اس کریم آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے غلام ہیں جو دشمنوں کے لئے بھی چادر بچھا دیتے ، ظلم کرنے والوں کو دعائیں دیتے ، جن کی طرف سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر مصائب کے پہاڑ ٹو ٹے انہیں پیار ومحبت سے نوازا ، جس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے قطع تعلق کیا آپ نے ان سے تعلق جوڑا ۔جنہوں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے کچھ چھینا انہیں بہت کچھ عطا فرمایا۔
(الغرض سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سراپا حلم تھے اسی لئے ان کے غلاموں نے بھی حلم اپنا کر ایسی مثالیں قائم کیں جن کی نظیر بہت کم ملتی ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ان بزرگ ہستیوں کے صدقے ہمیں بھی اُس پیارے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پیاری پیاری سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی تو فیق عطا فرمائے، جن کے خُلق کو خود خالقِ کائنات نے عظیم کہااورجن کی خِلْق کوخالقِ حقیقی نے جمیل کیا اور ہمیں بھی اخلاقِ صالحہ اور حلم وبُر دباری کی تو فیق عطا فرمائے ۔
( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)