Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
94 - 412
سے قصاص لیتے(یعنی قتل کے بدلے قتل کرتے) یا پھر دیت (یعنی سو اونٹوں) پر صلح کرلیتے لیکن یہ دونوں کام نہ کئے بلکہ سو اونٹ ان کے گھر والوں کے لئے بھجوائے۔ یہ بزرگ واقعی حلم وبر دباری کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔یہ بزرگ اس کریم آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے غلام ہیں جو دشمنوں کے لئے بھی چادر بچھا دیتے ، ظلم کرنے والوں کو دعائیں دیتے ، جن کی طرف سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر مصائب کے پہاڑ ٹو ٹے انہیں پیار ومحبت سے نوازا ، جس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے قطع تعلق کیا آپ نے ان سے تعلق جوڑا ۔جنہوں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے کچھ چھینا انہیں بہت کچھ عطا فرمایا۔

     (الغرض سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سراپا حلم تھے اسی لئے ان کے غلاموں نے بھی حلم اپنا کر ایسی مثالیں قائم کیں جن کی نظیر بہت کم ملتی ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ان بزرگ ہستیوں کے صدقے ہمیں بھی اُس پیارے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پیاری پیاری سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی تو فیق عطا فرمائے، جن کے خُلق کو خود خالقِ کائنات نے عظیم کہااورجن کی خِلْق کوخالقِ حقیقی نے جمیل کیا اور ہمیں بھی اخلاقِ صالحہ اور حلم وبُر دباری کی تو فیق عطا فرمائے ۔

( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر273:             باجماعت نماز کی فضیلت
     حضرتِ سیِّدُنا عبید اللہ بن عمرقَوَارِیْرِی علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں:'' میں نے ہمیشہ عشاء کی نماز با جماعت اداکی، مگر افسوس! ایک مرتبہ میری عشاء کی جماعت فوت ہوگئی۔ اس کاسبب یہ ہواکہ میرے ہاں ایک مہمان آیا،میں اس کی خاطر مُدَارَات (مہمان نوازی) میں لگا رہا ۔ فراغت کے بعد جب مسجد پہنچا توجماعت ہو چکی تھی۔ اب میں سوچنے لگا کہ ایسا کون سا عمل کیا جائے جس سے اس نقصان کی تلافی ہو۔ یکایک مجھے اللہ کے پیارے حبیب ،حبیب لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا یہ فرمانِ عالیشان یاد آیا کہ ''باجماعت نماز، منفرد کی نماز پر اکیس درجے فضیلت رکھتی ہے۔اسی طر ح پچیس اور ستائیس درجے فضیلت کی حدیث بھی مروی ہے ۔''
(صحیح البخاری،کِتَابُ الاذان،باب فضل صلاۃ الجماعۃ،الحدیث۶۴۵۔۶۴۶،ص۵۲،''لم اجد''باحدی وعشرین'')
    میں نے سوچا، اگر میں ستا ئیس مرتبہ نماز پڑ ھ لوں تو شاید جماعت فوت ہوجانے سے جوکمی ہوئی وہ پوری ہوجائے ۔ چنانچہ، میں نے ستائیس مرتبہ عشاء کی نمازپڑھی ، پھر مجھے نیند نے آلیا۔ میں نے اپنے آپ کو چند گُھڑ سواروں کے ساتھ دیکھا، ہم سب کہیں جارہے تھے۔اتنے میں ایک گھڑ سوار نے مجھ سے کہا:'' تم اپنے گھوڑے کو مشقت میں نہ ڈالو ،بے شک تم ہم سے نہیں
Flag Counter