Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
88 - 412
تعالیٰ علیہ کو بھونکنے لگا ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ واپس مسجد میں آگئے اور کچھ سوچنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ اسی مکان کی طرف چل دیئے۔ جب اسی کمزور وضعیف کتے کے قریب سے گزرے تو وہ دُم ہلانے لگا اور بالکل نہ بھونکا۔ جب اس گھر کے پاس پہنچے جہاں سے گا نے کی آواز آرہی تھی تو ایک خوبصورت نوجوان باہر آیا اور کہا:'' اے محتر م بزرگ! آپ پر یشان کیوں ہیں؟ مجھے جب آپ کے ایک ساتھی نے بتایا کہ میری وجہ سے آپ لوگو ں کو پریشانی ہو رہی ہے تو اسی وقت میں نے اپنے گناہوں سے تو بہ کرلی، اب آپ جو چاہیں گے میں وہی کرو ں گا ۔ میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد کرلیا ہے کہ اب کبھی بھی شراب نہ  پیؤں گا۔ اس کے بعد اس نوجوان نے تمام آلاتِ لہو ولعب اور شراب کے برتن توڑدیئے اور نیک لوگو ں کی صحبت اختیار کر کے اعمالِ صالحہ کی طرف راغب ہونے کی نیت کرلی ۔''

     آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ واپس مسجد آئے تو لوگوں نے پوچھا :'' حضور ! پہلی مرتبہ وہ کمزور کتا آپ پر بھونکااور دوسری مرتبہ چاپلوسی کرتے ہوئے دم ہلانے لگا، اس کی کیا وجہ ہے ؟ ''فرمایا:''جب میں پہلی مرتبہ باہر گیا تواللہ عَزَّوَجَلَّ سے کئے ہوئے وعدے میں کوتاہی ہوئی اور میں ذکر اللہ سے غافل ہوگیا ،اسی لئے وہ کمزور سا کتا بھی مجھ پر دلیر ہوکر بھونکنے لگا۔ جب کو تاہی کا احساس ہوا تو میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنی اس غلطی کی معافی مانگی، پھر دو بارہ گیا تو وہی کتا میری چاپلوسی کرنے لگا اور تم یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو۔یا د رکھو! ہر وہ شخص جو کسی بُری چیز کے خاتمے کے لئے جائے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے کئے ہوئے کسی وعدے میں اس سے کوتاہی ہو جائے تو تمام چیزیں اس پر دلیرہوجاتی ہیں ۔ لیکن جب وہ اس غلطی وکوتاہی کا ازالہ کر لے تو کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی اور یہ دونوں باتیں تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو۔''

    سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ہر گھڑی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں رہتے ہیں۔ ان عظیم لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جو ہر گھڑی حکمِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی بجا آوری کے لئے کوشاں رہتے ہیں ا ور انہیں راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ ''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر268:             عجیب وغریب واقعہ
    علا مہ وَاقِدِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے، ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا امیر مُعَاوِیَہ بن ا بو سُفْیَان رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے قبیلہ ''جُرْہُمِی''کے ایک شخص سے فرمایا :'' اگر تم نے اپنی زندگی میں کوئی عجیب وغریب بات دیکھی ہو تو اس کے متعلق کچھ بتاؤ۔''
Flag Counter