Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
61 - 412
پریشانی نہیں ہوتی جس کے نہ ملنے پر دوسروں کو پریشانی لاحق ہوتی ہے ۔ ہاں! وہ تو صرف فتنہ وفساد سے ڈرتے ہیں ۔'' اس اژدھے کا ایسا فصیح وبلیغ کلام سن کر میں نے اپنے دل میں کہا :'' سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !یہ اژدھا کتنا پیارا کلام کررہا ہے اورمیں اس کی بات کوکتنی اچھی طرح سمجھ رہاہوں ۔ ''

    پھر میں رونے لگا۔ میں یہ باتیں سوچ ہی رہا تھا کہ وہ اژدھا پھر بولا:''اے ابراہیم ! پوشیدہ باتوں کی ٹوہ میں نہ رہو، کیا تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق میں کسی کو حقیر سمجھتے ہو؟ بے شک مجھے قوتِ گویائی اسی پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے عطافرمائی ہے جس نے تمہارے باپ آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کو مٹی سے پیدا فرمایا ۔ تم میرے بولنے سے متعجب ہو رہے ہو ! حالانکہ زیادہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ہم ایک ایسی وادی سے تیرے پاس آئے ہیں جو یہاں سے ایک ماہ کی مسافت پر ہے ۔ ہمیں ہمارے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے یہاں بھیجا ہے ۔''

    یہ سن کرمیں بہت حیران ہوا اوراس اژدھے سے پوچھا:'' کیا وجہ ہے کہ ان چاروں اژدھوں میں سے صرف تم ہی کلام کر رہے ہواورباقی سب خاموش ہیں ؟''اس نے کہا:'' اے ابو اِسحاق علیہ رحمۃ اللہ الرزاق !بے شک! اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کی مخلوق کے درمیان حجاب ہے۔ مخلوق میں کچھ لوگ ایک دوسرے کے گہرے دوست ہیں ۔کچھ وزراء اورکچھ لوگ بعض کے شاگرد ومرید ہیں۔ ان چاروں اژدھوں نے مجھے اپنا امیر مان لیا اوراپنے آپ کو میرے حوالے کردیاہے ۔ اب میں ہی ان کی نمائندگی ورہبری کر رہا ہوں۔ میری ایک بات توجہ سے سن لیجئے! اگرآپ کسی کے امیر بنو اورتمہارے رفقاء آداب ِ سفر ملحوظ رکھیں تو عنقریب تم اور تمہارے تمام رفقاء صدق واِخلاص کی اعلیٰ منازل تک رسائی حاصل کرلو گے۔ لیکن جب امیرِ قافلہ ہی راہ سے بھٹک جائے اور اس کے رفقاء اس پر برتری چاہیں تو سمجھو کہ وہ قافلہ ناکام ہوگیا۔ ناکامی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ ماتحت اپنے امیر پر غالب آ جائیں اوراس کی طرف توجہ نہ دیں۔جب تم دیکھو کہ ماتحت اپنے امیر ونگران کے سامنے بڑی بے باکی سے بول رہا ہے اور امیر ونگران خوش ہے تو سمجھ لوکہ اب برکت اُٹھالی گئی۔''

     حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خَوَّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزاق فرماتے ہیں:'' اتنا کہنے کے بعد اچانک وہ چاروں اژدھے میری نظروں سے غائب ہوگئے۔پھر میں چالیس روز اسی ویران وغیر آباد وادی میں رہا اور جو منظر میں نے دیکھا اس کے بارے میں سوچ سوچ کر حیران ہوتارہا ۔ یہ چالیس دن ایسے گزرے کہ نہ تومجھے کھانے پینے کی فکر رہی اورنہ ہی کسی اورقسم کی حاجت درپیش آئی۔میں چالیس دن تک بالکل نہ سویااورکئی دن تک ایک ہی وضو سے نماز پڑھتارہا۔یہ وادی بہت زیادہ غیر آباد اورویران تھی۔ کوئی چیز اس میں ایسی نہ تھی جس سے اُنسیّت حاصل کی جاتی ۔ بہرحال چالیس دن بعد ایک صبح و ہ چاروں اژدھے پھر میرے سامنے ظاہر ہوئے ۔ا نہوں نے مجھے سلام کیا۔ میں نے سلام کا جواب دیا۔ ان میں سے وہی اژدھا جو پہلے مجھ سے مخاطب ہوا تھا، کہنے لگا: