Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
60 - 412
اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر کا بوسہ لیااوربہت خوش ہوئے۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر241:         فصیح وبلیغ کلام کرنے والا متوکل اژدھا
    حضرتِ سیِّدُناحامداَسْوَد علیہ رحمۃ اللہ الاحد نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناابراہیم خوَّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزاق کو یہ فرماتے ہوئے سنا :''توَ کلُّ کے بارے میں میرے یقین کی پختگی کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ میں جنگلوں اورصحراؤں میں سفر کرتا اوراپنے توکل کو پختہ کرتا۔ مجھے ویران اورغیرآباد علاقوں سے محبت ہوگئی ۔ ایک دن میں ایک ویران جنگل کی طرف گیا اوراس جنگل میں تین دن تین رات قیام کیا۔ جب چوتھی صبح ہوئی توبھوک وپیاس کی وجہ سے کمزوری محسوس ہونے لگی ۔ بتقاضائے بشریت مجھے رزق کے معاملے میں کچھ تردّد ہونے لگا۔ میں بڑا دِل گِیر(غمگین)ہوا۔ اچانک میرے سامنے چار بڑے بڑے اژدھے نمودار ہوئے۔ وہ اپنے منہ سے سیٹی کی سی آواز نکالنے لگے پھر بھنبھناہٹ سی سنائی دینے لگی۔ ان کی اس آواز میں ایسا غم وسوز تھا کہ ایسی غمگین آواز میں نے آج تک نہ سنی تھی۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔ وہ چاروں میری طرف آئے، ان میں سے ایک نے اپنا سر بلند کیا اور بڑا فصیح وبلیغ کلام کرتا ہوا مجھ سے یوں گویا ہوا:''اے ابراہیم (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) !کیا تو اپنے خالق کے بارے میں شک میں مبتلا ہے ؟''

    میں نے کہا:'' نہیں!اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں بالکل مطمئن ہوں۔'' اس نے کہا : ''پھرتو رزق کے بارے میں شک میں کیوں مبتلا ہوا؟''وہ اژدھا میری حالت سے واقف ہوگیاتھا۔میں نے متعجب ہوکر پوچھا: ''تم میرے حال سے کیسے واقف ہوئے؟''اس نے کہا:'' مجھے اس پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ نے آگاہ کیا جو ہر وقت میرے ساتھ ہے۔ سنو!ہم چار اژدھے مختلف مقامات کے رہنے والے ہیں اورہم توکل جمع کرنے آئے ہیں۔''

    میں نے کہا:'' یہ تو بہت ضروری ہے۔ بے شک میں نے بھی کھانے پینے کے متعلق توکل کیا ۔اس دوران اکثر اوقات بھوک وپیاس کاسامنا کرنا پڑتا ہے؟'' اس نے کہا:'' اے ابراہیم !پوشیدہ باتوں کی ٹوہ میں نہ پڑو۔بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ ایسے بندے بھی ہوتے ہیں جنہیں اس کا ذکر سیراب کرتاہے اوراس سے ان کی بھوک جاتی رہتی ہے ۔ پھر وہ کسی ایسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے جس کے ذریعے دوسرے لوگ اپنی زندگی گزارتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں میں ایسی چیزوں کے متعلق کبھی
Flag Counter