Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
52 - 412
کہ ترازو لے آؤ۔ غلام ترازو لے آیا اور دس ہزاردیناروزن کر کے تھیلیوں میں بھر دئیے گئے ۔'' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''رقم لے جائيے اور اپنا قرض ادا کیجئے ۔ ''

     میں نے احسان مندانہ انداز میں کہا:'' آپ کی یہ رقم مجھ پر قرض ہے ۔ میں یہ ضرور واپس کروں گا۔'' پھرمیں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں سے چلا آیا۔ گھر پہنچ کر سبز عمدہ چادر اوڑھی، خچر پر سوار ہوااور بادشاہ کے دربار پہنچ کر بڑے پُروقار انداز میں کہا: ''میرے متعلق لوگوں میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ میں یتیم کامال کھا کر بھاگ گیاہوں ۔ یہ دیکھئے! یہ سارامال حاضرِ خدمت ہے۔'' یہ دیکھ کر بادشاہ نے قاضی ،گواہ اورتمام ریکارڈطلب کئے۔پھر تمام مال اس یتیم کو ادا کردیا۔ پھرمیری تعریف کرتے ہوئے شکریہ اداکیااورمجھے گھر آنے کی اجازت دے دی۔

    جب میں گھر پہنچا تو ایک رئیس زادے نے مجھے بلایااور کہا:'' میں اپنی زمین تجھے ٹھیکے پر دیتاہوں ،اس سے جو فصل ہوگی ہم ایک مقررہ مقدار میں آپس میں تقسیم کرلیں گے۔ کیا تم راضی ہو؟''میں نے ہاں کردی اور زمین کی دیکھ بھال کرنے لگا۔ایک سال پورا ہوا تو میں نے فصل اس کے حوالے کردی اسے اس سال کافی نفع ہوا،میں نے تین سال کے لئے اس کی زمین لی تھی، تین سال بعد جب میں نے حساب لگایاتو میرے حصے میں تیس ہزار دینار آئے۔ میں نے دس ہزاردینار لئے اور حضرتِ سیِّدُنا دَعْلَج بن احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف چل دیا۔صبح کی نماز ان کی اقتداء میں ادا کی۔ نماز کے بعد وہ مجھے اپنے گھر لے گئے۔ دسترخوان بچھایا گیا اورہمارے سامنے ''ہریسہ''رکھ دیا گیا۔ میں نے اطمینان اورخوش دلی سے کھاناکھایا۔ جب فراغت پاچکے توحضرتِ دَعْلَج بن احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :'' آپ کا کیا حال ہے اورکیا خبر ہے ؟ ' ' میں نے کہا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم اورآپ کے تعاون سے میں نے تمام قرضہ اتاردیا اوراس وقت میری ملکیت میں تیس ہزار دینار ہیں۔ جو دس ہزار دینار میں نے آپ سے قرض لئے تھے وہ واپس کر نے آیا ہوں۔''

    یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!جس وقت میں نے رقم دی تھی تواس نیت سے نہ دی تھی کہ واپس لوں گا۔جائيے! اوریہ تمام رقم اپنے بچوں پر خرچ کیجئے ۔'' میں نے حیران ہوکر پوچھا:''اے شیخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! آخر اتنا مال آپ کے پاس کہاں سے آیاکہ آپ دس ہزار دینار مجھے ہدیہ دے رہے ہیں؟'' فرمایا: ''بات دراصل یہ ہے کہ میں نے چھوٹی عمر میں ہی قرآنِ کریم حفظ کرلیاتھا۔پھر احادیثِ کریمہ یادکیں ۔ اس طرح میں مشہور ہوگیا، پھر مجھے ایک بہت مال دار بحری تاجر ملا۔ اس نے مجھ سے پوچھا : ''کیا تم ہی دَعْلَج بن احمدہو؟''

    میں نے کہا:'' ہاں ۔'' تو وہ کہنے لگا:'' میں چاہتاہوں کہ اپنا مال تمہیں دوں تاکہ تم اس کے ذریعے تجارت کرو۔ اللہ رب العزت ہمیں جو بھی نفع دے گا وہ ہم دونوں کے درمیان برابر برابرتقسیم ہوگا۔پھر میرے مال سے مزید تجارت کرتے رہنا۔'' پھر اس نے ہزار ہزار درہم کی تھیلیاں دیتے ہوئے کہا:'' یہ سارا مال اپنے پاس رکھو اورتجارت شروع کردو۔اوریہ مزید کچھ رقم