Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
51 - 412
بعد ابن سماک علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق لوگوں کے ہمراہ قبرستان سے واپس چلے آئے۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر234:         مال ودولت کا بہترین استعمال
    حضرتِ سیِّدُنا ابو حسین احمد بن حسین واعظ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ'' ابو عبداللہ بن ابو موسیٰ ہاشمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس ایک یتیم بچے کے دس ہزار دینار امانت رکھے گئے ، انہیں تنگ دستی نے آلیا اور نوبت فاقوں تک پہنچنے لگی۔ بالآخر مجبور ہو کر امانت رکھی ہوئی رقم اپنے استعمال میں لے آئے۔ جب یتیم بچہ بڑا ہوگیا تو سلطان نے حکم دیا کہ اس کا مال اس کے سپرد کر دیا جائے۔ 

    حضرتِ سیِّدُناابو موسیٰ ہاشمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :'' جب مجھے یہ حکم ملاتو میں بہت پریشان ہوا ،زمین اپنی تمام تر وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہونے لگی۔ سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ میں کہاں جاؤں اورکس طرح رقم کی ادائیگی کروں۔ اسی پریشانی کے عالم میں صبح صبح گھرسے نکلا اوراپنے خچر پر سوارہوگیا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں ''کَرْخ''جاؤں شاید کوئی راہ نکل آئے۔ میں بے خیالی کے عالَم میں اپنے خچر پر سوار نہ جانے کس سمت جارہا تھا۔ بالآخر میراخچر''سَلُولِیّ''کی سمت جانے والے راستہ پرچلتا ہوا حضرتِ سیِّدُنا دَعْلَج بن احمد علیہ رحمۃ اللہ الاحد کی مسجد کے دروازے کے پاس رک گیا۔ میں نیچے اترا اورمسجد میں داخل ہوگیا۔ فجر کی نماز میں نے حضرتِ سیِّدُنا دَعْلَج بن احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اقتداء میں ادا کی۔ نماز کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میری طرف آئے ، مجھے خوش آمدید کہااور اپنے گھر لے گئے۔ ہم ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ایک لونڈی بہترین دسترخوان لے آئی پھر ہریسہ(یعنی گوشت اورکُوٹی ہوئی گندم ملا کر پکایا ہوا سالن)لے آئی، حضرتِ سیِّدُنا دَعْلَج بن احمدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: کھائيے !میں نے بُجھے بُجھے دل سے چند لقمے کھائے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے میری یہ حالت دیکھی تو فرمایا: آپ کھانا کیوں نہیں کھارہے اوراتنے پریشان کیوں ہیں ؟''

     میں نے انہیں ساراواقعہ بتادیااورکہا:'' اب میں پریشا ن ہوں کہ اتنا مال کہاں سے لاؤں؟'' میری روداد سن کرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا:'' آپ بے فکر ہوکر کھاناکھائیں، آپ کی حاجت پوری کردی جائے گی ۔'' پھر انہوں نے میٹھا منگوایا ہم نے مل کر کھانا کھایا پھر ہاتھ دھوئے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی لونڈی سے فرمایا :''فلاں کمرے کا دروازہ کھولوجیسے ہی دروازہ کھلا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں بہت سے تھیلے اوردیناروں سے بھرے ہوئے کافی سارے ٹوکرے رکھے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے کچھ تھیلے لے آئے میرے سامنے لاکر کھولے تو وہ دیناروں سے بھرے ہوئے تھے ۔ پھر غلام کو حکم دیا
Flag Counter